rss

افغان مفاہمت کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندے سفیر زلمے خلیل زاد کی افغان امن مذاکرات پر بریفنگ

العربية العربية, English English, Français Français, Русский Русский, हिन्दी हिन्दी

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
11 ستمبر 2020
بذریعہ ٹیلی کانفرنس

 

مورگن اورٹیگس: آپ کا بے حد شکریہ۔ ہمارے ساتھ موجودگی پر آپ سبھی کا شکریہ۔ میں معذرت چاہتی ہوں۔ مجھے علم ہے کہ ہم نے آپ کو اس کال کے بارے میں بالکل آخری وقت پر آگاہ کیا مگر جیسا کہ آپ سمجھ سکتے ہیں ہمیں بہت سے امور انجام دینا ہیں۔ ہم نے یہ امر یقینی بنانا چاہا کہ زلمے آپ تمام لوگوں سے بات چیت کریں تاکہ کل دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے توقعات کا اندازہ ہو سکے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آخری لمحے پر اطلاع ملنے کے باوجود آپ لوگ بڑی تعداد میں اس بریفنگ میں موجود ہیں جس پر میں آپ کی بیحد شکرگزار ہوں۔

میرے خیال میں یہ غیرمعمولی طور سے تلخ بات ہے کہ ہم نائن الیون کی صبح کو یہ بات چیت کر رہے ہیں۔ غالباً آپ میں بہت سے لوگوں کی طرح میں نے بھی آج کے  دن اپنے ٹیلی ویژن پر اس روز  جان دینے والوں کی یاد میں ہونے والے پروگرام دیکھنا تھے۔ اس کے ساتھ میں سمجھتی ہوں کہ آج کے دن دفتر خارجہ میں ہماری موجودگی ہم سب کے لیے یہ یاددہانی بھی ہے کہ ہم جو کام کر رہے ہیں وہ کس قدر سنجیدہ نوعیت کا ہے اور نائن الیون کے بارے میں ہماری تاریخ امریکہ اور ہمارے مستقبل کے لیے کتنی اہم ہے۔

یہاں میں بریفنگ کے ضوابط سے متعلق کچھ تفصیلات بتاتی چلوں کہ یہ کال آن دی ریکارڈ ہے مگر اس کے اختتام تک یہاں ہونے والی گفتگو کی نشرواشاعت پر پابندی رہے گی۔ میں جانتی ہوں کہ آپ میں بعض لوگ سوالات بھی پوچھیں گے۔ آپ اپنے فون پر ایک اور صفر کا بٹن دبا کر سوالات کی قطار میں شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم اس وقت ہمارے پاس 70 سے زیادہ لوگ لائن پر موجود ہیں۔ چنانچہ زیادہ سے زیادہ لوگوں سے سوالات لینے کے لیے ہم آپ سے درخواست کریں گے براہ مہربانی خود کو ایک ہی سوال تک محدود رکھنے کی کوشش کریں۔ چونکہ زلمے کے پاس بھی وقت محدود ہے اس لیے زیادہ سے زیادہ سوالات ممکن بنانے کے لیے ایسا کرنا ضروری ہے۔

یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ سفیر خلیل زاد کل دوحہ میں شروع ہونے والے افغان امن مذاکرات کے آغاز کی بابت گفتگو کے لیے لائن پر موجود ہیں۔ میں سمجھتی ہوں کہ آپ تمام لوگ گزشتہ روز دیکھ چکے ہیں کہ صدر نے اپنی کانفرنس میں بتایا تھا کہ وزیر خارجہ پومپیو ان مذاکرات کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے روانہ ہو چکے ہیں اور اس وقت وہ سفر میں ہیں۔

جیسا کہ وزیر خارجہ نے کہا ہے، افغان فریقین بہت جلد مل بیٹھ کر اس بارے میں تبادلہ خیال کریں گے کہ افغان عوام کو وہ سب کچھ کیسے دیا جا سکتا ہے جس کا وہ مطالبہ کر رہے ہیں۔ ایک ایسا افغانستان کیسے ممکن ہے جہاں تمام فریقین مفاہمتی جذبے سے باہم متحد ہوں اور جہاں حکومت پورے ملک کی نمائندگی کرے اور حالت جنگ میں نہ ہو۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ ایک طویل اور مشکل عمل کا محض آغاز ہے مگر ہمیں اس تاریخی لمحے تک پہنچنے اور یہ معاہدہ طے پانے کی خوشی ہے جو یہ یقین دہانی کراتا ہے کہ امریکہ کو افغان سرزمین سے عالمگیر دہشت گردوں کے ہاتھوں کبھی خطرہ لاحق نہیں ہو گا۔ اب میں اپنے عزیز دوست زلمے کو گفتگو کی دعوت دوں گی۔ مجھے یقین ہے کہ آپ تمام لوگ ان کی بات سننے کے لیے بیتاب ہیں۔ جی زلمے، بات کیجیے۔

سفیر خلیل زاد: مورگن آپ کا بے حد شکریہ۔ سبھی کو صبح اور شام بخیر۔ مجھے آپ ساتھ موجودگی پر خوشی ہے۔ جیسا کہ مورگن نے کہا، کل کا دن افغانستان کے لیے تاریخ ساز اہمیت رکھتا ہے۔

40 برس میں پہلی مرتبہ افغان فریقین اکٹھے بیٹھیں گے جن میں حکومتی وفد میں ایسے لوگ بھی شامل ہوں گے جو حکومت کا حصہ نہیں ہیں۔ علاوہ ازیں ان میں چار نہایت ممتاز خواتین، سول سوسائٹی کے ارکان اور سیاسی گروہ بھی شامل ہیں ۔ یہ لوگ ایک بااختیار طالبان وفد کے ساتھ گفت و شنید کریں گے اور پُرامید طور سے ایک ایسے سیاسی لائحہ عمل پر اتفاق پایا جائے گا جس سے افغانستان میں طویل جنگ کا خاتمہ کرنے میں مدد ملے گی۔ افغانستان کے عوام جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ہم  اس کوشش میں ان کے ساتھ ہیں۔ کل ہونے والا اجلاس 29 فروری کو طے پانے والے امریکہ طالبان معاہدے کی ایک اہم شرط اور نتیجہ ہے۔

اس معاہدے میں تین دیگر چیزیں بھی شامل ہیں جن میں پہلی افغانستان سے امریکی فورسز کی مرحلہ وار اور مشروط واپسی کا ٹائم ٹیبل ہے اور دوسری یہ کہ طالبان اپنی سرزمین سے القاعدہ سمیت کسی دہشت گرد گروہ کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے خطرہ بننے کی اجازت نہیں دیں گے اور اگر وہ مستقبل کی حکومت کا حصہ بنے تو اس وعدے کو قائم رکھیں گے۔ اس معاہدے کا تیسرا اہم حصہ ایک جامع رسمی جنگ بندی تھا۔ یہ بھی دونوں فریقین کے مابین حالیہ بات چیت کا ایک اہم موضوع ہو گا۔

اس روز ہم نے ایک اعلامیہ بھی جاری کیا۔ یہ افغان حکومت کے ساتھ ایک مشترکہ اعلامیہ تھا جس میں اس نے ان نکات کی حمایت کی جو میں نے ابھی بیان کیے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ افغان حکومت اپنی عملداری میں آنے والے علاقوں میں القاعدہ جیسے دہشت گردوں کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے خطرہ بننے کی اجازت نہیں دے گی۔ اس کا یہ عہد افغانستان میں قیام امن کے بعد بھی قائم رہے گا۔ اعلامیے میں یہ بات بھی شامل تھی کہ امریکہ افغانستان کے ساتھ اچھے اور دیرپا تعلقات چاہتا ہے۔

ہم یہ بات بھی واضح کرنا چاہیں گے کہ اگرچہ یہ مذاکرات ایک اہم کامیابی ہیں مگر اس ضمن میں کسی معاہدے تک پہنچنے کی راہ میں مشکلات اور نمایاں مسائل موجود ہیں۔ یہ طالبان اور حکومت دونوں فریقین کا امتحان ہے۔ کیا وہ افغانستان کے مستقبل کی بابت اپنی سوچ میں پائے جانے والے فرق کے باوجود کسی معاہدے پر پہنچ سکتے ہیں؟ اگر ہماری مدد کی ضرورت ہوئی تو ہم اس کے لیے تیار ہیں مگر یہ افغانستان میں امن کی سفارت کاری کا ایک نیا مرحلہ ہے۔ اب ہم ایک ایسے عمل کا حصہ بننے جا رہے ہیں جو افغانوں کے لیے قابل قبول ہے اور جس کی قیادت بھی افغانوں کے ہاتھ میں ہے۔ جب افغان ایک دوسرے سے ملیں گے تو وہاں کوئی ثالث اور کوئی سہولت کار موجود نہیں ہو گا۔ وہ ایک دوسرے سے بات چیت کریں گے۔ کانفرنس کا سیکرٹریٹ بھی دونوں فریقین سے تعلق رکھنے والے افغان ہی سنبھالیں گے۔

اس کے ساتھ ہی میں اپنی بات ختم کر کے آپ کے سوالات کی جانب آؤں گا۔ شکریہ۔

مس اورٹیگس: شاندار، شکریہ۔ میں سبھی کو یاددہانی کراتی چلوں کہ سوالات کرنے والوں کی قطار میں شامل ہونے کے لیے ایک اور پھر صفر کا بٹن دبائیں۔ کسی کو اس پر حیرانی نہیں ہونی چاہیے کہ میرے پاس قطار میں سب سے پہلے وہ شخص ہیں جو  طویل عرصہ سے اس مسئلے کی میڈیا کوریج کرتے چلے آئے ہیں۔ ٹائم میگزین سے کم ڈوزیئر۔

سوال: سفیر خلیل زاد آپ کا بے حد شکریہ۔ کیا آپ ہمیں بتا سکتے ہیں کہ امریکہ نے افغان حکومت کو آسٹریلیا اور فرانس کے اعتراضات کے باوجود ان ممالک کے شہریوں یا فوجی دستوں پر مہلک حملے کرنے والے قیدیوں کی رہائی کے لیے کیسے قائل کیا؟ میں طالبان کی جانب سے اغوا کیے گئے امریکی بحریہ کے سابق اہلکار مارک فریرکس اور لاپتہ امریکی پال اووربے کے بارے میں تازہ ترین صورتحال کے بارے میں بھی جاننا چاہتا ہوں۔ شکریہ۔

سفیر خلیل زاد: شکریہ۔ طالبان کے ساتھ ہمارے معاہدے میں یہ بات بھی شامل ہے کہ افغان جیلوں میں قید قریباً 5000 طالبان کو رہا کیا جائے گا ، بلکہ ان قیدیوں کا تبادلہ کیا جائے  گا۔ اس وقت افغانستان میں طالبان کی جیلوں میں 13 ہزار یا اس سے زیادہ قیدی موجود تھے۔ طالبان نے ان میں افغان حکومت کے ایک ہزار قیدیوں کو رہا کرنا تھا۔ افغان حکومت کی جیلوں میں قید طالبان میں یقیناً بعض ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے افغانستان میں موجود عالمی افواج کے خلاف تشدد کا ارتکاب کیا۔ مگر مشترکہ اعلامیہ یہ واضح کرتا ہے کہ ایک بڑا مقصد حاصل کرنے کے لیے اعتماد کی فضا قائم کرنے کی غرض سے یہ مشکل فیصلے لیے جانا تھے اور ان قیدیوں کی رہائی بھی ایسا ہی ایک فیصلہ تھا۔ بڑا مقصد یہ تھا کہ افغانستان میں امن عمل شروع ہو جس کا ایک اہم حصہ کل شروع ہونے والے بین الافغان مذاکرات ہیں۔

میں جانتا ہوں کہ ہم میں سے کوئی بھی ان قیدیوں کی رہائی پر خوش نہیں ہے جنہوں نے ہماری فورسز کے خلاف تشدد کا ارتکاب کیا ہے مگر ہم ناخوش ہونے کے باوجود ایک بڑا تصور ذہن میں رکھے ہوئے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ بین الافغان مذاکرات کا آغاز افغانستان میں جنگ کے اختتام کا پیش خیمہ ہو گا اور افغانستان دوبارہ کبھی ہم میں کسی کے لیے خطرہ نہیں بنے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک پرزور دلیل تھی اور کسی متعلقہ ملک نے اسے انا کا مسئلہ نہیں بنایا کہ اس سے افغانستان کے ساتھ ہمارے تعلقات متاثر ہوں گے۔ اگرچہ انہیں یہ اقدام پسند نہیں آیا مگر اس کے باوجود وہ یہ بات سمجھتے ہیں کہ یہ افغانستان کا فیصلہ تھا۔ یہ ایک مشکل مگر ضروری فیصلہ تھا جس کا مقصد امن کو ایک موقع دینے کے لیے بین الافغان مذاکرات ممکن بنانا تھا۔

مس اورٹیگس: بہت اچھے۔ شکریہ کم۔ زلمے، تمام اہم لوگ آج لائن پر موجود ہیں۔ اب ہم ایلیس لیبیٹ سے بات کریں گے جو اب سیریس ایکس ایم سے وابستہ ہیں۔

سفیر خیل زاد: ہیلو۔

مس اورٹیگس: ایلیس؟ ایلیس لیبیٹ؟

سوال: کیا آپ میری آواز سن سکتے ہیں ۔۔۔

مس اورٹیگس: جی، ہم آپ کو سن سکتے ہیں۔

سوال: کیا آپ میری آواز سن سکتے ہیں؟ اوہ، معافی چاہتی ہوں۔ سفیر آپ کا بے حد شکریہ۔ میں آپ سے گزشتہ روز نائب صدر امراللہ صالح پر قاتلانہ حملے کی بابت پوچھنا چاہوں گی۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ اگرچہ افغانستان میں بڑے حملوں میں کمی آئی ہے مگر مخصوص لوگوں کو نشانہ بنانے کے واقعات پہلے سے بڑھ گئے ہیں۔ حکومت نے اس تشدد کی ذمہ داری شاید طالبان پر تو عائد نہیں کی مگر ان تمام عسکری گروہوں کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے جو جو طالبان سے تعلق رکھتے ہیں اور اس کا کہنا ہے کہ طالبان ایسے گروہوں کے لیے چھتری کا کام کر رہے ہیں جس کا مقصد مذاکرات کے موقع پر اپنی پوزیشن مزید بہتر بنانا ہے۔ کیا آپ اس بارے میں کچھ وضاحت کر سکتے ہیں۔ آپ اس بارے میں کیا کہیں گے کہ اگرچہ افغانستان میں بڑے حملوں میں کمی آئی ہے مگر مخصوص لوگوں کو نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ ہو گیا ہے اور حملہ آور بہت سے سرکاری حکام کو ہدف  بنا رہے ہیں۔

سفیر خلیل زاد: جی، ہم نے مسٹر صالح پر حملے کی مذمت کی ہے۔ ایسے بہت سے عناصر ہیں جو صورتحال میں بگاڑ چاہتے ہیں اور امن مذاکرات کو آگے بڑھتا نہیں دیکھنا چاہتے اور ایسے لوگ بھی ہیں امن مذاکرات پر پیش رفت کے مخالف ہیں۔ ایسے لوگ بھی ہیں جو یہ چاہتے ہیں کہ امریکہ بدستور افغانستان جنگ میں پھنسا رہے۔ بہت سے ایسے کردار بھی ہیں جو ناصرف حکومت بلکہ طالبان کے ساتھ بھی برسرپیکار ہیں۔ داعش ایسا ہی ایک گروہ ہے جو افغانستان میں تشدد کے بہت سے واقعات میں ملوث ہے اور یہ نہیں چاہتا کہ افغان امن عمل آگے بڑھے۔ طالبان افغان حکومت اور اتحادی فوجوں کے علاوہ داعش سے بھی لڑ رہے ہیں۔

جہاں تک مسٹر صالح پر ہونے والے حملے کا تعلق ہے تو ہم نہیں جانتے کہ یہ کس نے کیا۔ تاہم یہ کوئی دہشت گرد گروہ یا افغانستان کا کوئی اندرونی دھڑا تھا۔ ابھی اس بارے میں کوئی اندازہ قائم کرنا قبل از وقت ہو گا۔ مگر عمومی طور پر میں کہہ سکتا ہوں کہ افغانستان میں ایسے بہت سے عناصر سرگرم ہیں۔ اگر طالبان اور حکومت کے مابین امن ہوتا ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ افغانستان ایسے چھوٹے گروہوں سے نمٹنے کی مضبوط پوزیشن میں ہو گا جن کی افغانستان  میں موجودگی ایک حقیقت ہے۔ چونکہ دو بڑے فریق حالت جنگ میں ہیں اس لیے داعش جیسے دہشت گرد گروہوں کو اپنی کارروائیوں کا موقع ملتا ہے۔ شکریہ۔

سوال: تو آپ یہ نہیں سمجھتے کہ طالبان ایسے گروہوں کو مذاکرات میں اپنی پوزیشن مستحکم بنانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ کیا آپ کا ایسا خیال نہیں ہے؟

سفیر خلیل زاد: جیسا کہ میں نے کہا، مثال کے طور پر افغانستان میں تشدد کے نمایاں ترین واقعات جیسا کہ زچہ بچہ ہسپتال پر حملے اور ایسی دیگر کارروائیوں میں ملوث ایک بڑا گروہ داعش ہے۔ اس گروپ کے خلاف طالبان بھی لڑ رہے ہیں اور داعش کے خلاف جنگ بڑی حد تک انہوں نے ہی لڑی ہے اور افغان حکومت بھی اس کے خلاف برسرپیکار ہے۔ جیسا کہ میں نے کہا ہم اس مخصوص حملے کے بارے میں نہیں جانتے کہ اس کے پیچھے کون ہو سکتا ہے۔ اس کی ذمہ داری بہت سے مختلف کرداروں پر عائد کی جا سکتی ہے۔

مس اورٹیگس: اوکے زلمے، کیا آپ کا ہمارے ساتھ رابطہ برقرار ہے؟ یوں لگتا ہے جیسے ایک لمحے کے لیے رابطہ منقطع ہوگیا  ہو۔ زلمے، کیا آب ہمارے ساتھ ہیں؟ زلمے؟

میں سوالات لینے کا سلسلہ جاری رکھتی ہوں اور امید ہے کہ وہ جلد ہمارے ساتھ دوبارہ رابطے میں آ جائیں گے۔ اب پولیٹیکو سے لارا سیلگمین سول کریں گی۔ پولیٹیکو سے لارا۔ کیا ہم ۔۔۔

سوال: ہیلو۔ شکریہ، کیا آپ مجھے سن سکتے ہیں؟

مس اورٹیگس: بہت اچھے، بات کیجیے۔

سوال: جی، مجھے سفیر سے یہ پوچھنا تھا کہ آیا وہ ممکنہ بائیڈن انتظامیہ میں چند ماہ کام کرنے کے لیے تیار ہوں گے۔

(وقفہ)

مس اورٹیگس: زلمے؟

سفیر خلیل زاد: جی، میرا رابطہ بحال ہو گیا ہے۔

مس اورٹیگس: ٹھیک ہے۔ کیا آپ واپس آ گئے ہیں؟ کیا آپ ہمیں سن سکتے ہیں؟

سفیر خلیل زاد: جی

مس اورٹٰیگس: ٹھیک ہے۔ پولیٹیکو کی لارا نے آپ سے ایک سوال کیا ہے۔ لارا، کیا آپ اسے دہرانا پسند کریں گی؟

سوال: جی یقیناً۔ میں بس یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ اگر صدر تبدیل ہو جاتا ہے اور بائیڈن انتظامیہ قائم ہوتی ہے تو آیا جناب سفیر چند مزید مہینے اس عہدے پر رہنا چاہیں گے؟

سفیر خلیل زاد: اس معاملے پر بات کرنا قبل از وقت ہو گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اب بھی ہمارے پاس چند مہینے باقی ہیں۔ مجھے امید ہے کہ بات چیت میں کچھ نہ کچھ پیش رفت ضرور ہو گی مگر اس بارے میں فیصلہ انتخابات کے بعد کرنا ہو گا۔ جہاں تک میرا تعلق ہے تو میں انتخابات تک یہ کام جاری رکھنے کا ہی پابند ہوں۔

مس اورٹیگس: ٹھیک ہے۔ اگر میں آپ کے نام کو درست طریقے سے ادا نہ کر پاؤں تو معذرت چاہتی ہوں۔ ہمارے ساتھ معاذ العمری لائن پر موجودہیں۔

سوال: جی معاذ العمری، کوئی مسئلہ نہیں۔ جناب سفیر اور سبھی کو صبح بخیر۔ مجھے ایک سوال کرنا ہے۔ طالبان کے ساتھ معاہدے کے مطابق امریکہ کو طالبان ارکان پر کچھ پابندیاں ہٹانا ہیں۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ پابندیاں اٹھانے کا درست وقت ہے؟ کیا آپ ایسے مسائل کی مزید وضاحت کر سکتے ہیں جن کاافغان حکومت اور طالبان کے مابین معاملہ طے کراتے وقت آپ کو سامنا ہوا تھا؟ شکریہ۔

سفیر خلیل زاد: معاہدے میں اس مخصوص وقت کا تعین کیا گیا ہے کہ طالبان کے خلاف پابندیوں پر نظرثانی کب کی جانا ہے اور یہ وہ وقت ہے جب بین الافغان مذاکرات شروع ہوں گے۔ ہم اس معاہدے کی شرائط کے پابند ہیں اور یہ معاہدہ پابندیوں کے خاتمے کے لیے سازگار حالات کا تعین بھی کرتا ہے جن کا آغاز بین الافغان بات چیت سے ہونا ہے۔ یقیناً قیدیوں کا معاملہ ان مذاکرات کے آغاز کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ تھا جو بالاآخر حل ہو گیا ہے مگر دیگر مسائل بھی ہیں، تاہم میں قیدیوں کے معاملے کو سب سے بڑا مسئلہ کہوں گا۔

مس اورٹیگس: ٹھیک ہے۔ شکریہ۔ میرا خیال ہے کہ سوالات کی قطار میں اگلا نمبر پیٹر لوئیوے کا ہے۔ پیٹر لوئیوے۔

سوال: جی، کیا آپ مجھے سن سکتے ہیں؟

مس اورٹیگس: جی ہمیں آپ کی آواز سنائی دے رہی ہے۔

سفیر خلیل زاد: جی

سوال: شکریہ جناب سفیر۔ مجھے ان مذاکرات میں افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے کردار کی بابت پوچھنا ہے۔ ہمیں اس حوالے سے کوئی اعلان کب سننے کو مل سکتا ہے؟

سفیر خلیل زاد: جیسا کہ میں نے پہلے کہا، طالبان کے ساتھ معاہدے اور افغان حکومت کے ساتھ مشترکہ اعلامیے میں ہماری فورسز کی مشروط اور مرحلہ وار واپسی شامل ہے۔ اس میں صرف امریکی افواج ہی شامل نہیں بلکہ اتحادی اور نیٹو افواج بھی ہیں اور اس وقت ہم دوسرے مرحلے میں ہیں۔ پہلے مرحلے میں ہمارے 8600 فوجی افغانستان میں تھے اور دوسرے مرحلے میں اکتوبر کے وسط سے نومبر تک ان کی تعداد 4500 رہ جائے گی۔ اب ہم اسی مرحلے میں ہیں۔ شکریہ۔

مس اورٹیگس: ٹھیک ہے۔ ہم اگلا سوال وائس آف امریکہ سے لیں گے۔

سوال: جی، میرویس رحمانی۔

مس اورٹیگس: جی بات کیجیے۔

سوال: کیا آپ میری آواز سن سکتے ہیں؟

سفیر خلیل زاد: جی۔

مس اورٹیگس: ہم آپ کو سن سکتے ہیں۔

سوال: جی، بریفنگ کے لیے شکریہ۔ مجھے افغانستان میں خواتین کے حقوق کے بارے میں پوچھنا ہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں طالبان نے ان حقوق کے تحفظ کی بابت اپنے بیانات اور تبصروں میں غیرواضح رویہ اختیار کیا ہے اور امریکہ نے بھی حالیہ امن بات چیت میں ان حقوق کے تحفظ سے متعلق کھل کر بات نہیں کی۔ تو میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس امن بات چیت کے دوران افغانستان میں خواتین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانا بھی طے پائے گا۔

میرا دوسرا سوال یہ ہے کہ طالبان نے دہشت گرد تنظیموں سے اپنا تعلق ختم کرنے سے متعلق کون سی ضمانت فراہم کی ہے؟ شکریہ۔

سفیر خلیل زاد: شکریہ۔ جہاں تک خواتین کے حقوق کی بات ہے تو یقیناً ہم اس کی حمایت کرتے ہیں۔ یہ دہشت گردی کے بعد ہمارے لیے دوسرا اہم ترین موضوع ہے اور ہم امن بات چیت میں خواتین کی شرکت کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ جیسا کہ میں نے کہا، چار خواتین اسلامی جمہوریہ کی مذاکرتی ٹیم کا حصہ ہیں۔ میں ان سے توقع رکھتا ہوں کہ وہ اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے پوری طرح تیار ہوں گی۔ افغانستان کا مستقبل یقینی طور پر افغانوں نے ہی طے کرنا ہے مگر ہم ایک ایسا افغانستان دیکھنا چاہتے ہیں جو خودمختار ہو، جو متحد ہو اور جمہوری ہو۔ امریکہ افغانستان سے تعلقات کے بارے میں اپنی پالیسیاں اس کے کیے فیصلوں اور معاہدوں اور ان معاہدوں پر عملدرآمد کی بنیاد پر بنائے گا۔

آپ نے دہشت گردی کے خاتمے کے بارے میں طالبان کے وعدوں کی بابت جو سوال پوچھا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ افغانستان سے ہماری فورسز کا انخلا طالبان کی جانب سے اپنے ان وعدوں پر عملدرآمد سے مشروط ہے۔ اس حوالے سے طالبان کا وعدہ نائن الیون کے دن کی مناسبت سے بے حد اہمیت کا حامل ہے۔ اس وقت میں خود وائٹ ہاؤس میں موجود تھا جب سچوایشن  روم میں ہونے والے اییک اجلاس میں نائن الیون حملوں کی خبر سنی گئی جس کا میرے ملک، میری ذات اور تب سے اب تک اس معاملے میں میرے کام پر بہت گہرا اثر ہے۔ اسی لیے ہم افغانستان کو دوبارہ کبھی ایسی جگہ بننے نہیں دینا چاہتے جس سے ملک کو ویسا خطرہ لاحق ہو جس کا ہم نے حملہ آوروں کے اس بزدلانہ دن پر سامنا کیا تھا۔

چنانچہ یقینی طور پر یہ ہمارے لیے سنجیدہ ترین معاملہ ہے۔ ہم اس مقصد کے حصول کے لیے ہر ضروری قدم اٹھائیں گے۔ شکریہ۔

مس اورٹیگس: آپ کا شکریہ۔ بدقسمتی سے اب مجھے آخری سوال لینا ہے۔ میں معذرت چاہتی ہوں مگر مجھے زلمے کے ساتھ ایک اور بریفنگ کا اہتمام کرنا ہے جو 11:00 بجے شروع ہو گی اور غالباً انہیں تاخیر ہو جائے گی۔ چنانچہ اب ڈیلی بیسٹ سے سپنسر ایکرمین آخری سوال کریں گے۔

سوال: ہیلو، کال کا بے حد شکریہ۔ جب آپ یہ کہتے ہیں کہ یہ عمل پوری طرح افغانوں کے ہاتھ میں ہے اور اس میں کوئی ثالث یا سہولت کار موجود نہیں ہے تو کیا آپ ہمیں کچھ بتا سکتے ہیں کہ اس مرحلے میں امریکہ کا کردار کیا ہو گا اور افغان حکومت نے آپ سے اس بارے میں کیا کہا ہے کہ وہ مذاکراتی عمل میں امریکہ کا کیسا کردار چاہتے یا نہیں چاہتے؟

سفیر خلیل زاد: ٹھیک ہے۔ جب ہماری مدد کی ضرورت ہو گی تو ہم اس کے لیے تیار ہوں گے۔ یقیناً ہم صورتحال کا جائزہ لے رہے ہوں گے اور ہر فریق سے رابطے میں رہیں گے۔ یقیناً تقابلی طور پر اس کا ہمیں ایک بڑا فائدہ ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر کوئی چاہے تو ہر مسئلے کا حل موجود ہوتا ہے۔ اگر فریقین میں اختلافات پاٹنے کے لیے کوئی تراکیب درکار ہوئیں تو ہم اس پر غور کریں گے۔ ہم اسے زیرغور لائیں گے اور مدد فراہم کریں گے۔

تاہم یہ افغانوں کے زیرقیادت افغانوں کا امن عمل ہے اور اگر انہیں ہماری مدد درکار نہ ہوئی تو ہمیں کوئی مسئلہ نہیں۔ یہ حوصلہ افزا بات ہو گی کہ وہ اپنا مسئلہ خود حل کر سکتے ہیں مگر یہ اہم بات ہے۔ یقیناً یہ افغانستان کے لیے اہم ہے۔ یہ خطے کے لیے اہم ہے اور یہ پوری دنیا کے لیے اہم ہے۔ یہ امریکہ کے لیے بھی اہم ہے۔ چنانچہ ہم ان کی مدد کے لیے تیار ہیں مگر ایک دوسرے سے بات چیت کا عمل افغانوں نے خود شروع کرنا ہے اور کل افتتاحی تقریب کے بعد دونوں فریقین باہم مل بیٹھ کر یہ فیصلہ کریں گے کہ انہیں آگے کیسے بڑھنا ہے۔ یہ سب کچھ اسی طرح ہونا چاہیے اور امید ہے کہ ایسا ہی ہو گا۔ شکریہ۔

مس اورٹیگس: آپ سبھی کا شکریہ۔ میں آخری لمحے بریفنگ کی اطلاع دینے پر ایک مرتبہ پھر معذرت چاہتی ہوں مگر مجھے خوشی ہے کہ اس قدر بڑی  تعداد میں لوگوں نے اپنی موجودگی ممکن بنائی۔ جلد آپ کو ہماری جانب سے مزید معلومات ملیں گی۔ سوالات اور بریفنگ کے لیے وقت نکالنے کا شکریہ۔ الوداع


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں