rss

امریکہ کی ایرانی وزارت انٹیلی جنس کی پشت پناہی میں کام کرنے والے سائبر کرداروں پر پابندیاں

العربية العربية, English English, Português Português, Español Español, Français Français, Русский Русский, हिन्दी हिन्दी

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
17 ستمبر 2020
امریکہ کی ایرانی وزارت انٹیلی جنس کی پشت پناہی میں کام کرنے والے سائبر کرداروں پر پابندیاں
وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو کا بیان

اسلامی جمہوریہ ایران دنیا میں سائبر سکیورٹی اور آن لائن انسانی حقوق کو لاحق سب سے بڑے خطروں میں ایک ہے۔ آج امریکہ سائبر خطرات کے حامل ایرانی گروہ ایڈوانسڈ پرزسٹنٹ تھریٹ 39 (اے پی ٹی39)، اس سے وابستہ 45 افراد اور رعنا انٹیلی جنس کمپنی (رعنا) نامی ایک جعلی کمپنی پر انتظامی حکم 13553 کی مطابقت سے پابندیاں عائد کر رہا ہے۔ ان گروہوں اور افراد نے مل کر مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں کم از کم 15 ممالک کو نشانہ  بنایا ہے جس کے علاوہ افریقہ، ایشیا، یورپ اور شمالی امریکہ کے مزید 30 ممالک میں سیکڑوں افراد اور ادارے بھی اس کا ہدف بن چکے ہیں۔ ہم ایران کے مذموم طرزعمل کو آشکار کرتے رہیں گے اور اسے ایسے اقدامات کی قیمت چکانے پر مجبور کریں گے یہاں تک وہ اپنے تخریبی ایجنڈے  کو ترک نہ کر دے۔

ایران کی وزارت انٹیلی  جنس و سلامتی (ایم او آئی ایس) اپنی حکومت کے کہنے پر منحرفین، صحافیوں اور عالمی کاروباری اداروں کے بارے میں کھوج لگاتی ہے۔ اس نے سائبر میدان میں خطرات پیدا کرنے والے گروہ، جعلی کمپنیاں اور ہیکر بھرتی کیے ہیں اور بے گناہ شہریوں اور کمپنیوں کو نشانہ بنانے اور دنیا بھر میں ایرانی حکومت کے ضرررساں ایجنڈے کو فروغ دینے کی غرض سے کمپیوٹروں کے لیے نقصان دہ سافٹ ویئر (میلویئر) استعمال کیے ہیں۔ سائبر کردار ایران کی قومی سلامتی کے مقاصد اور ایم او آئی  ایس کے تزویراتی  اہداف کو آگے بڑھاتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے اپنے مخالفین بشمول غیرملکی حکومتوں اور ایم او آئی ایس کی نظر میں خطرے کا باعث ہونے والے افراد کے خلاف کمپیوٹر حملے اور میلویئر مہمات سے کام لیا جاتا ہے۔

آج پابندیوں کے لیے نامزد ہونے والے کردار رعنا کے ذریعے اور ایم او آئی ایس کی جانب سے ایرانی شہریوں بالخصوص منحرفین، صحافیوں، سابق سرکاری ملازمین، تحفظ ماحول کے کارکنوں، پناہ گزینوں، یونیورسٹی  کے طلبہ و اساتذہ اور عالمگیر غیرسرکاری اداروں کے ملازمین کو نشانہ بنانے اور ان کی نگرانی کے لیے ضرررساں سائبر حملے کرتے ہیں۔ ان میں بعض لوگوں کو ایم او آئی ایس کی جانب سے گرفتاری اور جسمانی و نفسیاتی دہشت کا سامنا کرنا پڑا۔

ایم او آئی ایس کے لیے کام کرنے والے ان کرداروں نے ایرانی نجی شعبے کی کمپنیوں اور فارسی زبان و ثقافت کے مقامی و عالمی مراکز کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ آج اٹھایا جانے والا یہ اقدام ایرانی حکومت کی جانب سے عالمگیر سائبر سکیورٹی کو لاحق بہت بڑے خطرے اور ایرانی عوام کی بابت ایک اور یاد دہانی ہے جنہیں مسلسل ڈیجیٹل تاریکی کا سامنا ہے اور اعلیٰ ٹیکنالوجی کی مواصلاتی دنیا میں ان کی کوئی آواز نہیں۔ امریکہ ان خطرات کو سامنے لانے اور اپنے وطن نیز اپنے دوستوں اور اتحادیوں کے تحفظ سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں