rss

امریکہ کی جانب سے حزب اللہ کی کمپنیوں اور عہدیدار کی پابندیوں کے لیے نامزدگی

العربية العربية, English English, Português Português, Español Español, Français Français, Русский Русский, हिन्दी हिन्दी

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
17 ستمبر 2020
امریکہ کی جانب سے حزب اللہ کی کمپنیوں اور عہدیدار کی پابندیوں کے لیے نامزدگی
وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو کا بیان

طویل عرصہ سے لبنان کے سیاسی رہنما اپنی جیبیں بھرنے کے لیے ملکی معیشت میں شفافیت کے فقدان کا فائدہ اٹھاتے چلے آئے ہیں جبکہ وہ خود کو اپنے عوام کے حقوق کے محافظ کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ دہشت گرد گروہ حزب اللہ اپنے دعووں سے برعکس دوسرے کرداروں کی طرح اس دھوکہ دہی میں پوری طرح ملوث ہے۔

آج امریکہ حزب اللہ سے تعلق رکھنے والی دو کمپنیوں اور ایک عہدیدار کو ترمیمی انتظامی حکم 13224 کی مطابقت سے پابندیوں کے لیے نامزد کر رہا ہے۔ امریکہ آرچ کنسلٹنگ اور میعمر کنسٹرکشن پر حزب اللہ کی ملکیت اور زیراثر ہونے یا اس کی ہدایات پر کام کرنے کی پاداش میں پابندیاں عائد کر رہا ہے۔ حزب اللہ امریکہ کی نامزد کردہ عالمی دہشت گرد تنظیم اور خصوصی طور پر نامزد عالمی دہشت گرد ہے۔ ہم سلطان خلیفہ اسعد کو حزب اللہ کا رہنما یا عہدیدار ہونے پر پابندیوں کے لیے نامزد کر رہے ہیں۔

آرچ کنسلٹنگ اور میعمر کنسٹرکشن حزب اللہ کی ایگزیکٹو کونسل کے ماتحت بہت سی کمپنیوں میں شامل ہیں اور حزب اللہ نے ان کمپنیوں کو اپنی معاشی سرگرمی چھپانے اور امریکی پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال کیا ہے۔ حزب اللہ نے آرچ اور میعمر کو لاکھوں ڈالر مالیت کے سرکاری ٹھیکوں کا حصول یقینی بنانے کے لیے سابق لبنانی وزیر یوسف  فنیانوس سے مدد لی اور ان کمپنیوں نے اس رقم کا ایک حصہ حزب اللہ کی ایگزیکٹو کونسل کو بھیجا۔ امریکہ نے فنیانوس کو کابینہ میں اپنی حیثیت سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے حزب اللہ کو مادی مدد فراہم کرنے پر 8 ستمبر کو پابندیوں کے لیے نامزد کیا تھا۔ آرچ کنسلٹنگ اس سے پہلے جہاد البنا کا حصہ تھی اور بدستور اسے مالی وسائل فراہم کر رہی ہے۔ جہاد البنا حزب اللہ کی ایک مشہور تعمیراتی کمپنی ہے  جس پر امریکہ نے 2007 میں پابندی لگائی تھی۔

سلطان خلیفہ اسعد حزب اللہ میں آرچ، میعمر اور ایسی دوسری کمپنیوں کا نگران ہے جہاں وہ اس دہشت گرد گروہ کے شہری امور کے انتظام میں مدد دیتا ہے۔ اسعد آرچ، میعمر اور حزب اللہ کی دیگر کمپنیوں کی رہنمائی کے لیے حزب اللہ کی ایگزیکٹو کونسل کے سربراہ ہاشم صفی الدین کے ساتھ براہ راست رابطے میں رہتا ہے۔ سیاسی رہنماؤں کی جانب سے اپنے اتحادیوں کو ٹھیکے دینے اور اپنی جیبیں بھرنے کا یہ منصوبہ بالکل اسی طرح کی بدعنوانی ہے جس کے خلاف لبنان کے عوام احتجاج کر رہے ہیں۔ حزب اللہ دوسری جماعتوں ہی کی طرح لبنان کے بدعنوان نظام سے فائدہ اٹھاتی ہے جس کا آج عائد کی جانے والی پابندیوں اور 8 ستمبر کو سابق وزرا کی نامزدگی سے بخوبی اظہار ہوتا ہے۔

لبنانی عوام قریباً ایک سال سے بدعنوانی کے خلاف احتجاج کرتے چلے آئے ہیں اور اپنی حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ دہائیوں سے چلی آ رہی بے عملی ختم کرتے ہوئے ان کی بنیادی ضروریات پوری کرے۔

لبنان کے عوام بہتر کے حقدار ہیں اور امریکہ بدعنوانی کے خاتمے اور مزید موثر حکمرانی کے مطالبات میں ان کی حمایت کرتا رہے گا۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں