rss

اسلامی جمہوریہ ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیوں کی واپسی

Español Español, English English, Português Português, العربية العربية, Русский Русский, Français Français, हिन्दी हिन्दी

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
اسلامی جمہوریہ ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیوں کی واپسی
امریکی وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو کا بیان
ہفتہ،19 ستمبر شام 8:00 تک نشرو اشاعت پر پابندی
19 ستمبر 2020

ٹرمپ انتظامیہ نے ہمیشہ یہ سمجھا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امن کو سب سے بڑا خطرہ اسلامی جمہوریہ ایران سے لاحق ہے جس کی جانب سے اپنے انقلاب کو پھیلانے کی متشدد کوششوں کے نتیجے میں ہزاروں لوگ ہلاک ہوئے اور لاکھوں معصوم لوگوں کی زندگیاں تباہ ہوئی ہیں۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ ایسی حکومتوں کے ساتھ خوشامندانہ طرزعمل سے ان کا حوصلہ مزید بڑھ جاتا ہے۔ اسی لیے آج امریکہ دہشت اور یہود مخالفت کے سب سے بڑے ریاستی معاون اسلامی جمہوریہ ایران پر قبل ازیں ختم کی جانے والی اقوام متحدہ کی تمام پابندیوں کی حقیقی طور سے واپسی کا خیرمقدم کرتا ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد (یواین ایس سی آر) 2231 کے تحت بحالی کے عمل کی مطابقت سے ایران پر یہ پابندیاں دوبارہ نافذ ہو گئی ہیں۔ 20 اگست کو امریکہ نے سلامتی کونسل کے صدر کو ایران کی جانب سے جے سی پی او اے میں کیے گئے اپنے وعدوں کی نمایاں خلاف ورزی کی بابت مطلع کیا تھا۔ اس اطلاع نامے کے ذریعے ایران پر قبل ازیں اٹھائی جانے والی پابندیوں کی بحالی کے لیے 30 روزہ عمل شروع ہو گیا۔ یہ پابندیاں 19 ستمبر کو دن آٹھ بجے سے موثر ہو جائیں گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آج سے یو این ایس سی آر 1696، 1737، 1747، 1803، 1835، اور 1929کی شرائط دوبارہ موثر ہو چکی ہیں جو یو این ایس سی آر 2231 کے ذریعے ختم ہو گئی تھیں۔ مزید برآں یو این ایس سی آر کے پیراگراف 7، 8، اور 16 سے 20 تک بیان کردہ اقدامات اب ختم ہو چکے ہیں۔

امریکہ نے یہ فیصلہ کن قدم اس لیے اٹھایا کہ ایران کی جانب سے جے سی پی او اے میں کیے گئے وعدوں پر عملدرآمد میں ناکامی کے علاوہ سلامتی کونسل بھی اس پر اسلحے کی پابندی میں توسیع کرنے میں ناکام رہی جو 13 برس سے جاری تھی۔ سلامتی کونسل کی بے عملی کے نتیجے میں 18 اکتوبر کو ایران کے لیے ہر طرح کے روایتی ہتھیار خریدنے کا راستہ کھل جاتا۔ دنیا کی خوش قسمتی ہے کہ امریکہ نے ایسا ہونے سے روکنے کے لیے ذمہ دارانہ قدم اٹھایا۔ یو این ایس سی آر 2231 کے تحت اپنے حقوق کی مطابقت سے ہم نے قبل ازیں ختم کی گئی اقوام متحدہ کی سابقہ پابندیوں کو حقیقی طور سے بحال کرنے کا عمل شروع کیا۔ ان میں ایران پر اسلحے کی پابندی بھی شامل ہے۔ اس اقدام کے نتیجے میں اب دنیا پہلے سے زیادہ محفوظ ہو گئی ہے۔ امریکہ اقوام متحدہ کے تمام ارکان  سے توقع رکھتا ہے کہ وہ ان اقدامات پر عملدرآمد کے لیے اپنی ذمہ داریاں بھرپور طریقے سے نبھائیں گے۔ اسلحے کی پابندی کے علاوہ اس میں ایران کے جوہری افزودگی اور ری پراسیسنگ سے متعلق سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر پابندی، بلسٹک میزائل کے تجربے اور تیاری کی ممانعت اور جوہری اور میزائلوں سے متعلقہ ٹیکنالوجی ایران کو منتقل کرنے پر پابندیاں اور دیگر اقدامات بھی شامل ہیں۔ اگر اقوام متحدہ کے رکن ممالک ان پابندیوں پر عملدرآمد سے متعلق اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو امریکہ ناکامی کے ذمہ داروں کے خلاف اقدامات اور یہ امر یقینی بنانے کے لیے اپنے ملکی اختیارات استعمال کرنے کے لیے تیار ہے کہ ایران اقوام متحدہ کی جانب سے ممنوع قرار دی گئی سرگرمی سے فائدہ نہ اٹھا سکے۔

آج ایران کے خلاف پابندیوں کی واپسی عالمگیر امن اور سلامتی کی جانب ایک قدم ہے۔ 2015 کے جوہری معاہدے نے ایران کو وعدے کے مطابق اقوام عالم کا حصہ بننے پر مائل نہیں کیا۔ اس کے بجائے ملاؤں نے اپنے ہاتھ آئی نئی دولت کو یمن سے عراق اور لبنان سے شام تک موت اور تباہی کی آگ بھڑکانے کے لیے استعمال کیا اور ہمیں اسی نتیجے کی توقع تھی۔ اگر امریکہ اقوام متحدہ کے اقدامات کی بحالی کے لیے قدم نہ اٹھاتا تو ایرانی حکومت بہت جلد مزید آزادانہ طریقے طور سے دنیا بھر میں  ہتھیاروں کی خریدوفروخت کے قابل ہو جاتی۔ جے سی پی او اے کی ناکامیوں کے باعث ایران کے خلاف یورینیم کی افزودگی کے پروگرام اور جوہری ری پراسیسنگ سے متعلق سرگرمیوں پر پابندیوں کی مدت پانچ سال بعد ختم ہو جانا ہے جس کے نتیجے میں وہ خطرناک جوہری صلاحیت حاصل کرنے کے قریب آگیا ہے جو کہ ناقابل قبول بات ہے۔ تاہم اقوام متحدہ کی پابندیوں کی بحالی کی بدولت اب ایران جوہری افزودگی اور ری پراسیسنگ نیز بھاری پانی سے متعلق سرگرمیوں کو معطل کرنے کا پابند ہے۔ ہم دنیا میں دہشت کے سب سے بڑے ریاستی معاون کو کبھی دنیا کے مہلک ترین ہتھیار حاصل کرنے نہیں دیں گے۔

آنے والے دنوں میں امریکہ اقوام متحدہ کی پابندیوں پر عملدرآمد کو مزید مضبوط بنانے اور ان کی خلاف ورزی کرنے والوں سے جوابدہی کے لیے بہت سے اضافی اقدامات کا اعلان کرے گا۔ ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی ہماری مہم جاری رہے گی یہاں تک کہ ایران اسلحے کے پھیلاؤ سے متعلق خطرات کو روکنے اور افراتفری، تشدد  اور خونریزی کا خاتمہ کرنے کے لیے ہمارے ساتھ ایک جامع معاہدے پر نہیں پہنچ جاتا۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں