rss

امریکہ کی جانب سے ایران پر جامع پابندیوں کا نفاذ وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو کا بیان

Español Español, English English, Português Português, العربية العربية, Français Français, Русский Русский, हिन्दी हिन्दी

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
21 ستمبر 2020

 

ٹرمپ انتظامیہ نے واضح کر دیا ہے کہ امریکہ دنیا میں دہشت گردی اور یہود مخالفت کے سب سے بڑے ریاستی معاون اسلامی جمہوریہ ایران کو مشرق وسطیٰ اور دنیا بھر میں ہلاکت اور افراتفری پھیلانے سے روکنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔ امریکہ ایران کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے ذریعے دنیا کے لیے خطرے کا باعث بننے کا انتظار کرنے کے بجائے ایک مرتبہ پھر اپنی عالمگیر قیادت کی بہترین روایات کی تکمیل کرنے اور ذمہ دارانہ اقدام میں مصروف ہے۔

آج صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کی قیادت میں دفتر خارجہ، محکمہ خزانہ اور تجارت نے ایران کی جانب سے جوہری خطرات نیز میزائلوں اور روایتی ہتھیاروں کا پھیلاؤ روکنے کے لیے نمایاں قدم اٹھایا ہے۔

جوہری ہتھیاروں، میزائلوں اور روایتی اسلحے کے حوالے سے ایران دنیا کے لیے ایک خاص خطرہ ہے۔ ایران کی حکومت اپنے جوہری پروگرام کو عالمی برادری سے جبراً ناجائز فائدہ اٹھانے اور علاقائی و عالمگیر سلامتی کے لیے خطرات پیدا کرنے کی غرض سے استعمال کرتی ہے۔ ایران کے پاس مشرق وسطیٰ میں میزائلوں کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے اور اس نے یمن میں حوثی جنگجوؤں اور لبنان و شام میں حزب اللہ کے دہشت گردوں جیسے متشدد غیرریاستی عناصر کو میزائل اور میزائل تیار کرنے کی ٹیکنالوجی برآمد کی ہے۔ امریکہ اور اس کی شراکت دار قوتوں نے گزشتہ برس حوثیوں کو بھیجے جانے والے ایرانی ہتھیاروں کو راستے میں تواتر سے روکا جو اس بات کا اظہار ہے کہ ایران کی حکومت بدستور اپنے روایتی ہتھیاروں کو مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام پیدا کرنے اور خطے بھر میں فرقہ وارانہ تشدد اور دہشت گردی کی آگ بھڑکانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

یہ اقدامات اس بات کو نمایاں کرتے ہیں کہ امریکہ ایران کی جانب سے جوہری اسلحے، میزائلوں اور روایتی ہتھیاروں سے لاحق خطرے کا مقابلہ کرنے سے نہیں ہچکچائے گا۔ انہی خطرات کے باعث اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے متفقہ طور پر ایران کے خلاف پابندیاں نافذ کیں جن کا آغاز 2006 سے ہوا تھا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کی مطابقت سے پابندیوں کی واپسی کے باعث اب ایران کے خلاف یہ اقدامات ایک مرتبہ پھر موثر ہو چکے ہیں۔

ہمارے اقدامات درج ذیل ہیں:

  • صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران سے متعلقہ روایتی ہتھیاروں کی منتقلی کے خلاف نئے انتظامی حکم کا اجرا۔ اقوام متحدہ کی جانب سے ایران پر اسلحے کی پابندی اب غیرمعینہ مدت کے لیے دوبارہ نافذ ہو چکی ہے اور ہم یقینی بنائیں گے کہ یہ پابندی ایران کے طرزعمل میں تبدیلی آنے تک برقرار رہے۔ نیا انتظامی حکم ہمیں اس پابندی سے بچنے کی کوشش کرنے والے کرداروں سے جواب طلبی کے ذرائع مہیا کرتا ہے۔
  • دفتر خارجہ کی جانب سے ایران کی وزارت دفاع اور آرمڈ فورسز لاجسٹکس (ایم او ڈی اے ایف ایل)، ایران کی ڈیفنس انڈسٹریز آرگنائزیشن (ڈی آئی او) اور اس کے ڈائریکٹر مہرداد اخلاقی کتابچی کے علاوہ وینزویلا کے غیرقانونی آمر نکولس مادورو کو روایتی اسلحے سے متعلقہ سرگرمیوں پر پابندیوں کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ یہ قدم ایران کے روایتی ہتھیاروں سے متعلق نئے انتظامی حکم کے ذریعے اٹھایا گیا ہے۔
  • دفتر خارجہ اور محکمہ خزانہ کی جانب سے ایران کی اٹامک انرجی آرگنائزیشن (اے ای او آئی) سے وابستہ چھ افراد اور تین اداروں کی انتظامی حکم 13382 (وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے ذمہ داروں اور ان کے معاونین سے متعلق) پابندیوں کے لیے نامزدگی۔ اس اقدام میں ایک ایسا فرد اور ادارہ بھی شامل ہیں جن کی 19 ستمبر 2020 کو اقوام متحدہ کی بحال ہونے والی پابندیوں کے تحت دوبارہ نامزدگی عمل میں آئی ہے۔
  • اے ای او آئی سے منسلک پانچ افراد کے ناموں کی محکمہ خزانہ کی فہرست میں شمولیت۔ محکمہ خزانہ ان افراد پر برآمدات سے متعلق پابندیاں عائد کرے گا۔
  • محکمہ خزانہ کی جانب سے ایران کے مائع ایندھن سے چلنے والے بلسٹک میزائلوں کی تیاری کے ادارے ‘شہید ہیمت انڈسٹریل گروپ’ (ایس ایچ آئی جی) سے وابستہ تین افراد اور چار اداروں کی انتظامی حکم 13382 کی مطابقت سے پابندیوں کے لیے نامزدگی اور اس حکم کے تحت پہلے ہی پابندیوں کا سامنا کرنے والے دو افراد پر مزید پابندیوں کا نفاذ۔ یہ دونوں افراد بھی ایس ایچ آئی جی سے وابستہ ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ دنیا میں دہشت اور یہود مخالفت کے سب سے بڑے ریاستی معاون کے خلاف ذمہ دارانہ اقدامات اٹھا کر مشرق وسطیٰ اور یورپ بھر میں امریکیوں اور وہاں کے شہریوں کی حفاظت ممکن بنا رہی ہے۔ ہم اپنی پابندیاں جاری رکھیں گے اور انہیں وسعت دیں گے یہاں تک کہ ایران ایسی جامع بات چیت کے لیے آمادہ نہ ہو جائے جس سے اس کے ضرررساں طرزعمل سے نمٹنے میں مدد ملتی ہو۔ ہم ایران کے ساتھ سفارت کاری کے لیے ہمیشہ تیار ہیں مگر ایران کو اس کا جواب مزید تشدد، خونریزی اور جوہری دھونس کے بجائے سفارت کاری سے ہی دینا ہو گا۔ اس وقت تک اس کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی مہم جاری رہے گی۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں