rss

وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو، وزیر خزانہ سٹیون منوچن، وزیر دفاع مارک ایسپر، وزیر تجارت ولبر راس، اقوام متحدہ میں امریکہ کی نمائندہ کیلی کرافٹ اور قومی سلامتی کے مشیر رابرٹ او برائن کی ایران پر پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کے بارے میں پریس کانفرنس

Português Português, English English, Español Español, العربية العربية, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Русский Русский

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
21 ستمبر 2020

بین فرینکلن روم
واشنگٹن، ڈی سی

وزیر خارجہ پومپیو: تمام لوگوں کو صبح بخیر۔ میں وزیر منوچن، ایسپر، راس، سفیر کرافٹ اور سفیر او برائن کی قیادت اور اس اہم موقع پر دفتر خارجہ  میں آمد پر ان کے شکریے سے اپنی بات شروع کرنا چاہتا ہوں۔

میں گزشتہ ہفتے ابراہم معاہدوں کے موقع پر وائٹ ہاؤس میں موجود تھا جو کہ مشرق وسطیٰ میں امن کی جانب بہت بڑا قدم ہیں۔ آج میں فخریہ اعلان کر رہا ہوں کہ کیسے ٹرمپ انتظامیہ اسی مقصد کو آگے بڑھانے اور امریکی عوام کے تحفظ کے لیے اس سے بھی بڑھ کر اقدامات کر رہی ہے۔

امریکہ کی کوشش سے گزشتہ ہفتے کے اختتام پر اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف قبل ازیں ختم کی گئی اقوام متحدہ کی تمام پابندیاں بشمول اس پر اسلحے کی خریدوفروخت کی پابندی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کی مطابقت سے بحال ہو گئیں۔ ایرانی حکومت کی حقیقت کے بارے میں ٹرمپ انتظامیہ ہمیشہ کھرے موقف کی حامل رہی ہے کہ یہ ایک بنیاد پرست، انقلابی اور دنیا بھر میں دہشت گردی اور یہود مخالفت کی سب سے بڑی ریاستی معاون ہے۔

صدر ٹرمپ یہ بات سمجھتے تھے کہ جے سی پی او اے ایک بدترین ناکامی ہے۔  اس نے ایران کو ”اقوام عالم کی برادری” میں شامل نہیں کیا  یا تہران کی جوہری ہتھیاروں تک رسائی کی راہ نہیں روکی۔

اس کے بجائے یہ ایران کی خوشامد کا عمل تھا۔ اس نے ایرانی حکومت کو اربوں ڈالر دیے اور اس کے لیے پانچ ہی برس میں دنیا بھر میں دہشت گرد گروہوں اور آمروں کے لیے اسلحے کا بیوپاری بننے کی راہ ہموار کی۔

ذرا تصور کیجیے کہ اگر ایران آزادانہ طور سے مزید جدید ہتھیار خریدنے کا اہل ہوتا تو کیا ہوتا۔ ہمارا ایسا ہونے دینے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

صدر کی جانب سے آج اعلان کردہ انتظامی حکم ہمیں اقوام متحدہ کی اسلحے کی پابندیوں کے نفاذ اور اقوام متحدہ کی پابندیوں سے بچنے کی کوشش کرنے والوں کے احتساب کا ایک نیا اور طاقتور ذریعہ فراہم کرتا ہے۔

آج میں ایران کی وزارت دفاع، آرمڈ فورسز لاجسٹکس اور ایران کی ڈیفنس انڈسٹریز آرگنائزیشن اور اس کے ڈائریکٹر پر پابندیاں عائد کر کے اس نئے انتظامی حکم کے تحت پہلا قدم اٹھاؤں گا۔

ہم وینزویلا کے سابق صدر نکولس مادورو پر بھی پابندیاں عائد کر رہے ہیں۔ تہران میں بدعنوان حکام نے اقوام متحدہ کی اسلحے کی پابندیوں کا تمسخر اڑانے کے لیے دو برس تک وینزویلا میں غیرقانونی حکومت  کے ساتھ کام کیا ہے۔ آج ہمارے اقدامات دنیا بھر کے لیے انتباہ ہیں کہ خواہ آپ کوئی بھی ہوں، اگر آپ ایران پر اسلحے کی پابندی کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے تو آپ کو پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

 میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے حوالے سے موجودہ امریکی اختیار کے تحت حامد رضا قدیریان اور احمد شیوائی پر پابندیوں کا اعلان بھی کر رہا ہوں۔ ان افراد کا ایران میں یورینیم کی افزودگی کے کاموں میں مرکزی کردار ہے۔

2018 میں صدر ٹرمپ کی قیادت میں جب ہم نے ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی مہم شروع کی تو ناقدین نے کہا کہ اس سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ مگر ان کی بات غلط ثابت ہوئی۔

ہماری پابندیوں نے 70 بلین ڈالر سے زیادہ مالی وسائل تک ایران کی رسائی روک کر بے شمار مسلمانوں، یہودیوں اور عیسائیوں کی زندگی بچائی۔ ایسا نہ ہونے کی صورت میں یہ دولت دہشت گردی کی نذر ہو جاتی۔

ہم نے ایرانی عوام کی مدد کے لیے تجارت اور معاونت کا ذریعہ کھلارکھتے ہوئے یہ سب کچھ کیا۔ جیسا کہ ہم اپنے آج کے اقدام سے ظاہر کر رہے ہیں، جب تک ایرانی حکومت بات چیت کے لیے تیار نہیں ہوتی اور اپنے طرزعمل میں تبدیلی کے لیے ایک حقیقی معاہدہ قبول نہیں کرتی اس وقت تک ہم یہ سب کچھ جاری رکھیں گے۔ امریکہ کے عوام کو علم ہونا چاہیے کہ ان کا تحفظ ہمیشہ ہمارے لیے مقدم رہے گا۔

اب میں وزیر منوچن کو بات کرنے کی دعوت دوں گا۔ سٹیون۔

وزیر خزانہ منوچن: شکریہ وزیر پومپیو۔ دفتر خارجہ میں آپ کے ساتھ موجودگی میرے لیے خوشی کا باعث ہے۔

امریکی انتظامیہ ایران کو بلسٹک میزائلوں اور روایتی ہتھیاروں کی نئی ترسیل کے ذریعے باقی دنیا کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دے گی۔

آج محکمہ خزانہ ایسے اداروں کو پابندیوں کے لیے نامزد کر رہا ہے جو ایران کے جوہری اور بلسٹک میزائلوں کے پروگراموں کی مدد کرتے ہیں اور ایسے اعلیٰ حکام پر بھی پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں جو ایران کے جوہری طاقت والے بلسٹک میزائلوں کی تیاری کے عمل کی نگرانی کرتے ہیں۔ ہمارے آج کے متعدد اہداف ایران کی اٹامک انرجی آرگنائزیشن سے متعلق  ہیں جس کا جوہری پروگرام پر عملی اور باضابطہ کنٹرول ہے اور جس پر جوہری تحقیق و تیاری کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ آج اس ادارے میں ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدے پر کام کرنے والے تین افراد کے علاوہ اے ای او آئی کے تین ماتحت اداروں پر بھی پابندی عائد کی جا رہی ہے جن کا ایران کے غیرفوجی جوہری پروگرام کے لیے متحرک کردار ہے۔

محکمہ خزانہ نے ایران کے بلسٹک میزائل پروگراموں کے لیے فوجی استعمال کا سازوسامان اور فوجی و غیرفوجی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والی اشیا کی تیاری اور فراہمی کے متعدد ذمہ داروں کو بھی پابندیوں کے لیے نامزد کیا ہے۔ آج پابندیوں کا سامنا کرنے والوں میں ماموت انڈسٹریز اور ماموت ڈیزل نیز ان میں حصص کے مالک متعدد لوگ اور اعلیٰ سطحی حکام بھی شامل ہیں۔

میں شہید ہیمت انڈسٹریل گروپ کے مخصوص حصوں کی پابندیوں کے لیے نامزدگی پر بھی روشنی ڈالنا چاہتا ہوں۔ خاص طور پر شہید ہاج علی مواحد ریسرچ سنٹر مائع ایندھن سے چلنے والے بلسٹک میزائلوں اور خلائی راکٹ کی اڑان کے لیے استعمال ہونے والی گاڑیوں کی تیاری، ان کی حتمی پرزہ بندی اور تجرباتی پرواز  کا ذمہ دار ہے۔

مزید برآں جانتے بوجھتے ہوئے ان افراد یا اداروں کے لیے نمایاں لین دین کرنے والے تمام مالیاتی اداروں کو امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

امریکی انتظامیہ ایران کو جوہری ہتھیاروں، بلسٹک میزائلوں اور روایتی اسلحے کے حصول  سے روکنے کے لیے اپنے پاس دستیاب ہر ذریعے سے کام لے گی۔ ایران ان ہتھیاروں سے باقی دنیا کے لیے براہ راست خطرہ پیدا کرنے اور اسے خوفزدہ کرنے کا کام لیتا ہے۔

جناب وزیر خارجہ پومپیو، میں یہاں سے رخصت کے لیے معذرت چاہتا ہوں، تاہم اس بات چیت میں شامل کیے جانے پر میں آپ کا مشکور ہوں۔

وزیر خارجہ پومپیو: شکریہ سٹیون۔

وزیر دفاع ایسپر: سبھی کو صبح بخیر اور شکریہ۔ گزشتہ ہفتے صدر نے ابراہم معاہدے کر کے پرامن اور خوشحال مشرق وسطیٰ کی جانب ایک تاریخی قدم اٹھایا۔ آج امریکہ اپنے عوام کے تحفظ اور اپنے فوجیوں، مفادات اور اپنے اتحادیوں و شراکت داروں کے خلاف ایرانی جارحیت روکنے کے لیے ایک اور اہم قدم اٹھا رہا ہے۔

گزشتہ دو برس میں تہران نے عالمگیر جہاز رانی، علاقائی تنصیبات اور امریکہ نیز  اس کے شراکت دار ممالک کی فورسز کو حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ ان میں ایران کی پشت پناہی میں سرگرم ملیشیاؤں کی جانب سے عراق میں امریکی فوجی اڈوں اور اہلکاروں پر میزائل حملے بھی شامل ہیں۔

علاوہ ازیں ایران نے حزب اللہ اور حوثیوں جیسے غیرریاستی کرداروں کو جدید روایتی ہتھیار فراہم کر کے سالہا سال تک سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ ایسے غیرریاستی کردار ان ہتھیاروں کو شہری آبادی کے مراکز پر حملوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اسی لیے محکمہ دفاع نے اپنی فورسز کے بہادر مردوخواتین کی حفاظت، قوت مزاحمت کا توازن بحال کرنے اور تجارت و سمندری سفر کی آزادی جیسے معاملات میں عالمگیر قوانین اور اصولوں کا تحفظ کرنے کے لیے فیصلہ کن قدم اٹھایا ہے۔ ہم مستقبل میں ایران کی جارحیت کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں اور امریکی انتظامیہ کی جانب سے ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی مہم میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے بدستور پُرعزم ہیں۔

آج جاری ہونے والا انتظامی حکم روایتی ہتھیاروں کی درآمد اور ان کے پھیلاؤ کی ایرانی کوششوں کو ناکام بنائے گا اور اس سے امریکی فورسز، ہمارے اتحادیوں، شراکت داروں اور عام شہریوں کے تحفظ میں مدد ملے گی یہاں تک کہ ایران عالمی اصولوں کی پاسداری پر آمادہ نہیں ہو جاتا۔ ہم تہران پر زور دیتے ہیں کہ وہ خطے میں اپنی ضرررساں سرگرمیاں بند کرے اور ایک ذمہ دار ملک  جیسا طرزعمل اپنائے۔ مگر اس کے ساتھ ہم ایران کی جارحیت کا جواب دینے کے لیے بھی تیار ہیں۔ ہمارے کمانڈروں کے پاس اپنے فوجیوں کی حفاظت اور کسی بھی طرح کے غیریقینی حالات سے نمٹنے  کے لیے درکار اختیارات اور وسائل موجود ہیں۔ ہم ایران کے تخریبی طرزعمل کا مقابلہ کرنے کے لیے بدستور اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ ایسا کرتے ہوئے ہم اپنے لوگوں اور اپنے  مفادات کا تحفظ کریں گے اور خطے بھر میں ہم خیال ممالک کی سلامتی برقرار رکھیں گے۔

شکریہ۔

وزیر تجارت راس: صبح بخیر۔ میں ایران کی جوہری بلسٹک میزائلوں اور روایتی ہتھیاروں سے متعلق مہمات ختم کرنے کے لیے صدر کے عزم کا مشکور ہوں۔ ایران کی ایسی سرگرمیوں سے پوری دنیا کو خطرات اور دہشت کا سامنا ہے۔ آج امریکی محکمہ خزانہ پانچ ایرانی سائنس دانوں کو ایران کا جوہری پروگرام آگے بڑھانے یا اس میں مدد دینے پر پابندیوں کی فہرست میں شامل کر رہا ہے۔ ان افراد میں احمد نوزاد گولک، بہنام پور میدی ، حامد سپہریان، مجتبیٰ فرہادی گنجی، سید جواد احمدی، پورمیدی (ناقابل سماعت) اور گنجی ایران کی اٹامک انرجی آرگنائزیشن کی جے ایچ ایل لیبارٹری سے وابستہ ہیں جو جوہری سرگرمیوں میں ملوث ہے اوراسے  ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قررداد 1803 کے ذریعے پابندیوں کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔

پورمیدی نے دھوکہ دہی اور مبہم طریقہ کار کے ذریعے اے ای او آئی کے لیے حساس سازوسامان اور مواد کے حصول کے اقدامات کیے۔ گنجی نے جوہری پروگرام سے متعلق حساس اشیا بشمول مغربی ممالک کا سازوسامان حاصل کرنے کے لیے بیرون ملک ایرانی کارندوں کے لیے کام کیا جو ایسی چیزوں کا حصول ممکن بناتے ہیں۔ اس نے تربیتی مقاصد اور اے ای او آئی کو درکار تکنیکی معلومات کے حصول کے لیے بیرون ملک سفر بھی کیا۔ گولک اے ای او آئی کے ایک ذیلی ادارے سے وابستہ ہے جس کا کام جوہری میدان میں بہت سے منصوبوں پر عملدرآمد کرنا ہے۔ اس نے حساس اشیا بشمول جوہری ایندھن کی ری پراسیسنگ میں کام آنے والی چیزوں کے حصول کے لیے بیرون ملک ایرانی کارندوں کے ساتھ کام کیا۔ احمدی اے ای او آئی کا ملازم ہے جس نے جوہری پروگرام سے متعلق ملاقاتوں کے لیے بیرون ملک سفر کیا ہے۔

پابندی کے لیے نامزدگی کے نتیجے میں ہمارے برآمدی انتظامی ضوابط کے مطابق ان لوگوں کو برآمدات، بازبرآمدات اور اندرون ملک سازوسامان کی منتقلی کے لیے اضافی اجازت نامہ درکار ہو گا۔ ان پانچ افراد نے ایران کے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے پروگرام میں اہم کردار ادا کیا اور وہ بدستور ایرانی حکومت کے ملازم  ہیں۔ ایران کو چاہیے کہ وہ جوہری حفاظتی ضوابط پر عمل کرے اور عالمی برادری کے ساتھ فوری تعاون کرے۔ محکمہ تجارت ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے عزم میں صدر ٹرمپ کے ساتھ ہے۔

صدر ٹرمپ کی قیادت میں مجھے وزیر پومپیو، منوچن، قومی سلامتی کے مشیر او برائن اور سفیر کرافٹ کے ساتھ مل کر ایران سے جواب طلبی  اور جوہری ہتھیاروں کے حصول کی جانب اس کی پیش رفت روکنے پر فخر ہے۔ شکریہ۔

سفیر کرافٹ: صبح بخیر۔ آج ہم جن اقدامات کا اعلان کر رہے ہیں اور گزشتہ تین ماہ میں سلامتی کونسل میں ہمارے کام کا ایک ہی مقصد ہے اور وہ امن کی جستجو ہے۔ امریکہ کو جو بات خاص بناتی ہے اورہ یہ ہے  کہ ہم سچائی کے لیے کھڑے ہیں۔ ماضی کی طرح ہم ہر وقت امن اور سلامتی کے تحفظ کے لیے اکیلے کھڑے ہوں گے۔ ہمیں درست اور غلط کا تعین کرنے کے لیے دوسروں کی توثیق درکار نہیں ہے۔ ہم صرف اعدادوشمار پر انحصار نہیں کرتے، خاص طور پر جب اکثریت دہشت گردی، افراتفری اور جنگ کا ساتھ دینے  کی پریشان کن کیفیت میں ہو تو ہم اس گروہ کا حصہ بننے سے انکار کرتے ہیں۔

امریکہ دنیا میں اچھائی کی طاقت ہے۔ آج جو کثیرملکی نظام رائج ہے اس کے پیچھے امریکہ کی کوششیں ہیں اور ہم ہی اسے سب سے زیادہ مالی وسائل فراہم کر رہے ہیں۔ تاہم جیسا کہ میں نے تواتر سے کہا ہے، جب یہ نظام ناکام ہوا تو ہم ناکام نہیں ہوں گے۔ جے سی پی او اے کے ذریعے ایران کے جوہری عزائم کے آگے بند باندھنے سے متعلق سلامتی کونسل کے ارکان کی باطل امیدیں اس پر پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کا جواز نہیں بن سکتیں۔ یہ پابندیاں اقوام متحدہ کی قرارداد 2232 میں دیے گئے طریق کا رکی مطابقت سے عائد کی گئی ہیں۔ اب ہمیں توقع ہے کہ اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک اپنی قانونی ذمہ داری پوری کریں گے اور ایران پر یہ پابندیاں دوبارہ نافذ کریں گے۔

جیسا کہ آج ہم نے ثابت کیا ہے، امریکہ یہ امر یقینی بنانے کے لیے ہرممکن قدم اٹھائے گا کہ دنیا میں دہشت کا سب سے بڑا ریاستی معاون اسلامی جمہوریہ ایران مزید مہلک ہتھیاروں کے ساتھ دنیا کے لیے پہلے سے زیادہ بڑا خطرہ بننے نہ پائے۔ ہم یہ سب کچھ امن کی خاطر کر رہے ہیں۔ ہم یہ اقدامات امریکی عوام، مشرق وسطیٰ کے عوام، یورپ کے عوام اور دنیا بھر کے عوام کی حفاظت کے لیے کر رہے ہیں۔ شکریہ۔

مسٹر او برائن: صبح بخیر۔ وزیر پومپیو، وزیر ایسپر، وزیر راس اور سفیر کرافٹ کا شکریہ۔ آج صدر ایران کو جوہری ٹیکنالوجی، بلسٹک میزائل ٹیکنالوجی اور روایتی ہتھیاروں تک رسائی سے روکنے کے لیے فیصلہ کن قدم اٹھا رہے ہیں۔ افسوسناک طور سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ایران پر روایتی اسلحے کی پابندی میں توسیع نہ کر کے عالمگیر امن اور سلامتی کو ترقی دینے کے مقصد میں ناکام ہو گئی ہے۔ اقوام متحدہ سے برعکس امریکہ ایران کو بلسٹک میزائلوں اور جدید روایتی ہتھیاروں کے درآمد اور برآمد کنندہ کی حیثیت سے مشرق وسطیٰ اور دنیا کو مزید خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دے گا۔ اقوام متحدہ کی پابندی اٹھائے جانے کے بعد ایران یقینی طور پر اسلحے کا بڑا بیوپاری بننا چاہے گا۔

اسی حقیقت کو پیش نظر رکھتے ہوئے  صدر نے آج صبح کچھ ہی دیر پہلے اوول آفس میں ایک انتظامی حکم نامے پر دستخط کیے ہیں جس کا نتیجہ اُن ممالک، کاروباری اداروں اور افراد پر کڑی اقتصادی پابندیوں کی صورت میں نکلے گا جو اسلامی جمہوریہ ایران کو روایتی ہتھیاروں کی ترسیل، فروخت یا منتقلی میں ملوث پائے جائیں گے۔ صدر ٹرمپ کا حکم ایران کی جانب سے سرکش حکومتوں کو روایتی ہتھیاروں کی برآمد کا راستہ روکے گا۔ اس حکم کے ذریعے اسلحہ ساز ممالک کی جانب سے ایران کو  ہتھیاروں کی برآمد پر بھی پابندی لگائی جائے گی کہ ایران یہ ہتھیار  دہشت گردوں اور سرکش حکومتوں کو مہیا کرے گا۔ مختصر یہ کہ امریکہ ایران کی جانب سے جدید روایتی ہتھیاروں کی خریدوفروخت کے ذریعے خطے اور دنیا کو عدم استحکام سے دوچار کرنے پر خاموش نہیں رہ سکتا۔ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام سے وابستہ 27 اداروں اور افراد پر نئی پابندیاں عائد کرنے کے علاوہ برآمدی کنٹرول سے متعلق اقدامات بھی اٹھا رہی ہے۔

آخری بات یہ کہ امریکہ نے ایران پر قبل ازیں معطل پابندیاں اٹھا لی ہیں۔ جب امریکہ نے ایران کے ناکام جوہری معاہدے میں شمولیت اختیار کی تھی تو اوبامہ انتظامیہ نے امریکی عوام کو بتایا تھا کہ امریکہ کے پاس ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیاں دوبارہ نافذ کرنے کا اختیار ہمیشہ رہے گا خواہ دوسرے ممالک اس کی توثیق کریں یا نہ کریں۔ جے سی پی او اے کے لیے امریکہ کی منظوری حاصل کرنے کے لیے یہ اہم ترین شرط تھی۔ صدر ٹرمپ اب امریکہ اور اپنے اتحادیوں کے تحفظ کے لیے اپنے حقوق سے کام لے رہے ہیں۔ ایرانی حکومت نے اپنے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام اور اس سے متعلق ریکارڈ کے بارے میں تواتر سے جھوٹ بولا ہے اور عالمی معائنہ کاروں کو اپنی جوہری تنصیبات تک رسائی نہیں دی۔ آج ہمارے اقدامات ایرانی حکومت کے لیے واضح پیغام ہیں کہ ایسا طرزعمل برداشت نہیں کیا جائے گا۔ امریکہ عالمی برادری کو بھی ایک واضح پیغام بھیج رہا ہے کہ ایران کی خوشامد کرنے اور اسے مدد دینے والوں کو اب اس کی تخریبی سرگرمیوں سے کنارہ کر لینا چاہیے۔

جوہری بم یا علاقائی بالادستی کے حصول پر وسائل ضائع کرنے کے بجائے ایرانی حکومت کو چاہیے کہ اپنے عوام کو وہ سب کچھ مہیا کرے جو وہ چاہتے ہیں اور انہیں پنپتا ہوا اور خوشحال مستقبل دے جوکہ  ان کا حق ہے۔ کئی دہائیوں کی تقسیم اور جنگوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں ایک نیا سویرا طلوع ہو رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے وائٹ ہاؤس میں طے پانے والے ابراہم معاہدے 25 سال سے زیادہ عرصہ بعد مشرق وسطیٰ میں امن کی جانب ایک نمایاں قدم ہیں۔ ایران کو اس تاریخی لمحے سے کام لینا چاہیے۔ اسے چاہیے کہ دہشت، بالادستی، جوہری ہتھیاروں کے حصول کی جستجو کو خیرباد کہے اور پرانی رنجشیں ترک کر دے۔ ایران کو اپنے ہمسایوں کا ساتھ دینا چاہیے جو ترقی، مشترکہ مفادات اور مشترکہ اہداف پر مبنی بہتر مستقبل کو گلے لگا رہے ہیں۔ صدر نے واضح کر دیا ہے کہ اگر ایران امن کی راہ اختیار کرنے پر رضامند ہے تو امریکہ اس کے ساتھ ہو گا۔ آپ کا بے حد شکریہ۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں