rss

صدر ٹرمپ کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے پچھترویں اجلاس سے خطاب

Русский Русский, English English, العربية العربية, Français Français, Português Português, Español Español, فارسی فارسی, 中文 (中国) 中文 (中国), हिन्दी हिन्दी

وائٹ ہاؤس
پریس سیکرٹری کا دفتر
واشنگٹن، ڈی سی
22 ستمبر 2020

 

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرنا میرے لیے ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔

دوسری جنگ عظیم کے خاتمے اور اقوام متحدہ کے قیام کے پچھتر سال بعد، ہم ایک بار پھر ایک عظیم عالمی جدوجہد میں مصروف ہیں۔ ہم نے دکھائی نہ دینے والے دشمن یعنی چائنہ وائرس کے خلاف ایک شدید جنگ شروع کر رکھی ہے جس نے 188 ممالک میں لاتعداد انسانی جانیں لے لی ہیں۔

امریکہ میں ہم نے دوسری عالمی جنگ کے بعد سے سب سے زیادہ جارحانہ انداز میں تحرک پیدا کیا۔ ہم نے تیزی سے ایک ریکارڈ تعداد میں اپنی ضرورت سے فالتو وینٹی لیٹر تیار کیے اور ہم نے انہیں دنیا بھر میں دوستوں اور شراکت داروں تک پہنچایا۔ ہم زندگی بچانے والے علاجوں کی تیاری میں سب سے آگے تھے جس کی وجہ سے اپریل کے بعد سے ہمارے ہاں اموات کی شرح 85 فیصد کم ہوئی۔

ہماری کوششوں کی بدولت، تین ویکسینیں کلینیکل تجربات کے آخری مرحلے میں ہیں۔ ہم ان کو پہلے ہی سے بڑے پیمانے پر تیار کررہے ہیں تاکہ تجربات کی کامیابی کی صورت میں ان کی فوری ترسیل ہوسکے۔

ہم ویکسین تقسیم کریں گے، ہم وائرس کو شکست دیں گے، ہم اس عالمی وبا کو ختم کریں گے، اور ہم بے مثال خوشحالی، تعاون اور امن کے ایک نئے دور میں داخل ہوں گے۔

اب جب کہ ہم اس روشن مستقبل کی جانب بڑھ  رہے ہیں، ایسے میں ہمیں اس ملک کو جوابدہ ٹھرانا چاہیے جس نے دنیا میں یہ طاعون پھیلایا: یعنی چین۔

وائرس کے ابتدائی دنوں میں، چین نے اندرونِ ملک سفر پر تو پابندی لگا دی مگر چین سے پروازوں کو باہر جانے اور دنیا میں یہ وبا پھیلانے کی اجازت دیئے رکھی۔ چین نے میری اُن کے ملک کے سفر پر پابندی کی ایسے حالات میں مذمت کی جب انہوں نے اپنے ہاں اندرون ملک پروازیں منسوخ کیں ہوئیں تھیں اور شہریوں کو گھروں میں بند کیا ہوا تھا۔

چینی حکومت اور صحت کی عالمی تنظیم نے– جسے عملی طور پر چین کنٹرول کرتا ہے– یہ غلط اعلان کیا کہ (اس وائرس کے) انسان سے انسان کو منتقل ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ بعد میں، انہوں نے غلط بیانی سے کام لیتے ہوئے کہا کہ علامات کے بغیر لوگ اس بیماری کو نہیں پھیلاتے۔ 

اقوام متحدہ کو چین کو اس کے اقدامات کے لیے جوابدہ ٹھہرانا چاہیے۔

اس کے علاوہ، چین ہر سال کروڑوں ٹن پلاسٹک اور کچرا سمندروں میں پھینکتا ہے، دوسرے ممالک کے پانیوں میں حد سے زیادہ مچھلیاں پکڑتا ہے، گھونگھوں کی چٹانوں کے وسیع علاقے کو برباد کرتا ہے، اور دنیا کے کسی بھی ملک کے مقابلے میں زیادہ مقدار میں زہریلا پارہ فضا میں چھوڑتا ہے۔ امریکہ کے مقابلے میں چین کے کاربن کے اخراج  تقریباً دوگنا ہیں اور اِن میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے برعکس، پیرس کے یک طرفہ موسمیاتی معاہدے سے میری علیحدگی اختیار کرنے کے بعد، گذشتہ سال امریکہ نے معاہدے میں شامل کسی بھی ملک کی نسبت اپنے کاربن کے اخراجوں کو سب سے زیادہ کم کیا ہے۔

جو لوگ چین کی ہرطرف پھیلی آلودگی کو نظر انداز کرتے ہوئے امریکہ کے غیر معمولی ماحولیاتی ریکارڈ پر حملہ کرتے ہیں انہیں ماحولیات سے کوئی دلچسپی نہیں۔ وہ صرف امریکہ کو سزا دینا چاہتے ہیں اور میں اس کی حمایت نہیں کروں گا۔

اگر اقوام متحدہ کو ایک موثر تنظیم بننا ہے تو اسے دنیا کے اصل مسائل پر توجہ مرکوز کرنا ہوگی۔ ان میں دہشت گردی، خواتین پر مظالم، جبری مشقت، منشیات کی سمگلنگ، انسانی اور جنسی بیوپار، مذہبی زیادتیاں اور مذہبی اقلیتوں کی نسلی تطہیر شامل ہیں۔

انسانی حقوق کے سلسلے میں امریکہ ہمیشہ قائدانہ کردار ادا کرتا رہے گا۔ میری انتظامیہ مذہبی آزادی، خواتین کے لیے مواقع، ہم جنس پرستی کو جرم قرار دیئے جانے کے خاتمے، انسانی بیوپار کے خلاف جنگ، اور ماؤں کے پیٹ میں موجود بچوں کے تحفظ کو فروغ دے رہی ہے۔

ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ امریکی خوشحالی پوری دنیا میں آزادی اور سلامتی کی اہم ترین بنیاد ہے۔ تین سال کی قلیل مدت میں، ہم نے تاریخ کی سب سے بڑی معیشت کھڑی کی، اور ہم تیزی سے یہی کام دوبارہ کر رہے ہیں۔ ہماری فوج کے حجم میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ ہم نے گزشتہ چار برسوں میں اپنی فوج پر 2.5 کھرب ڈالر خرچ کیے ہیں۔ ہمارے پاس دنیا کی طاقت ور ترین فوج ہے۔ اور دنیا کا کوئی ملک اس کی طاقت کے قریب بھی نہیں پہنچتا۔

ہم چین کی دہائیوں کی تجارتی زیادتیوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ ہم نے نیٹو کے ایک ایسے اتحاد کو ازسرِنو طاقتور بنایا جس میں دوسرے ممالک اپنا منصفانہ حصہ پہلے سے کہیں زیادہ ادا کر رہے ہیں۔ ہم نے انسانی سمگلنگ کو روکنے کے لیے میکسیکو، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اور ایلسلویڈور کے ساتھ تاریخی شراکتیں قائم کیں۔ ہم کیوبا، نکاراگوا، اور وینزویلا کے عوام کی حق پر مبنی آزادی کی جدوجہد میں اُن کے ساتھ کھڑے ہیں۔

ہم ایران کے بدترین جوہری معاہدے سے دستبردار ہوئے اور دنیا کی دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والی ریاست پر پر سخت ترین پابندیاں عائد کیں۔ ہم نے داعش کی خلافت کا نام و نشان مٹایا؛ اس کے بانی اور رہنما، البغدادی کو ہلاک کیا؛ اور دنیا کے چوٹی کے دہشت گرد، قاسم سلیمانی کو ختم کیا۔

اس ماہ، ہم سربیا اور کوسوو کے درمیان ایک امن معاہدہ  کروانے میں کامیاب ہوئے۔ عشروں کے جمود کے بعد مشرق وسطی میں امن کے دو معاہدوں کی شکل میں ہم نے ایک تاریخی سنگ میل عبور کیا۔ اسرائیل، متحدہ عرب امارات اور بحرین، سب نے وائٹ ہاؤس میں ایک تاریخی امن معاہدے پر دستخط کیے۔ عنقریب مشرق وسطی کے بہت سے ممالک اس صف میں شامل ہونے والے ہیں۔ وہ تیزی سے اس راہ پر گامزن ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ یہ ان کے لیے بہت اچھا ہے اور یہ دنیا کے لیے بہت اچھا ہے۔

امن کے یہ تاریخی معاہدے نئے مشرق وسطی کی ایک نئی صبح ہیں۔ ایک مختلف نقطہ نظر اختیار کرکے، ہم نے ایسے مختلف نتائج حاصل کیے ہیں جو ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ اچھے ہیں۔ ہم نے ایک سوچ اپنائی اور یہ سوچ کامیاب ہوئی۔ ہمارا جلد ہی امن کے مزید معاہدے کروانے کا ارادہ ہے اور میں اس خطے کے مستقبل کے بارے میں جتنا آج پرامید ہوں اتنا زیادہ پہلے کبھی بھی پر امید نہیں تھا۔ ریت پر کوئی خون نہیں ہے۔ امید ہے کہ وہ دن ختم ہوچکے ہیں۔

اس وقت جب کہ ہم بات کر رہے ہیں، امریکہ افغانستان میں جنگ ختم کرنے پر بھی کام کر رہا ہے اور ہم اپنے فوجیوں کو وطن واپس لا رہے ہیں۔ امریکہ امن قائم کرنے والوں کی حیثیت سے اپنی منزل مقصود پانے جا رہا ہے، تاہم یہ امن طاقت کے ذریعے آ رہا ہے۔ اب ہم ماضی کی نسبت کہیں زیادہ مضبوط ہیں۔ ہمارے ہتھیار ایک ایسی اعلی سطح پر ہیں جس کی پہلے کوئی نظیر نہیں ملتی — یعنی صاف بات یہ ہے کہ ہم نے اس درجے کی طاقت کا کبھی سوچا بھی نہ تھا۔ اور میں خدا سے صرف یہ دعا کرتا ہوں کہ ہمیں انہیں کبھی بھی استعمال نہ کرنا پڑے۔

دہائیوں تک، اپنے عوام کی قیمت پر اپنی عالمی خواہشات کو پورا کرنے کی خاطر، وہی تھکی ہوئی آوازیں ایک ہی قسم کے ناکام حل تجویز کرتی چلی آ رہی تھیں۔ لیکن جب آپ اپنے شہریوں کا خیال رکھیں گے توآپ کو تعاون کی ایک حقیقی بنیاد میسر آ جائے گی۔ بحیثیت صدر، میں نے ماضی کے ناکام انداز فکر کو مسترد کردیا ہے اور میں فخریہ طور پرامریکہ کو پہلے نمبر پر اسی طرح رکھتا ہوں جس طرح آپ کو اپنے ممالک کو پہلے رکھنا چاہیے۔ اس میں کوئی حرج نہیں — یہی کام آپ کو بھی کرنا چاہیے۔

میں بہت زیادہ پراعتماد  ہوں کہ اگلے سال جب ہم بالمشافہ اکٹھے ہوں گے تو ہم اپنی تاریخ کے بہترین سالوں میں شمار ہونے والے ایک سال کے دوران اکٹھے ہوں گے — بلکہ صاف بات یہ ہے اور  امید ہے کہ یہ دنیا کی تاریخ کے بہترین سالوں میں سے ایک سال ہوگا۔

آپ کا شکریہ۔ خدا آپ سب پر برکتیں نازل فرمائے۔ خدا امریکہ پر برکتیں نازل فرمائے۔ اور خدا اقوام متحدہ پر برکتیں نازل فرمائے۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں