rss

”ریاستی مجالسِ قانون ساز اور چین کا مسئلہ”

Français Français, English English, Español Español, Português Português, हिन्दी हिन्दी

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
23 ستمبر 2020
”ریاستی مجالسِ قانون ساز اور چین کا مسئلہ”
وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو اور ریاست وسکونسن کے سینیٹر راجر روتھ کا خطاب

سینیٹر روتھ: شکریہ جناب وزیر خارجہ۔ میں آپ کی باتوں کو سراہتا ہوں۔ تاہم اب آپ کے پاس ایک مشکل کام ہے۔ آپ پر ایک مشکل ذمہ داری ہے۔

وزیر خارجہ پومپیو: مجھے اس سے کوئی پریشانی نہیں۔

سینیٹر روتھ: میں اپنے قانون سازوں سے ملا جو آج یہاں موجود ہیں اور ان سے کہا کہ وہ مجھے سوالات بھیجیں۔ میں نے ان میں بعض سوالوں پر دوبارہ کام کیا تاکہ بات چیت میں روانی قائم رہے۔ تاہم میں آپ کو سرسری طور پر اس بارے میں بتانا چاہوں گا تاکہ اندازہ ہو سکے کہ یہاں موجود لوگ کیا سوچ رہے ہیں اور امید ہے کہ آپ ہمیں اس بارے کچھ تناظر مہیا کر سکتے ہیں۔

تو پہلا سوال دراصل سینیٹ کے دو ارکان کی جانب سے آیا ہے۔ ان میں ایک سینیٹر سٹیو نیس ہیں جو ایئرنیشنل گارڈ کے ریٹائرڈ چیف ماسٹر سارجنٹ ہیں۔ دوسرے سینیٹر ڈیل کوئینگا ہیں جو اس وقت وسکونسن آرمی نیشنل گارڈ میں میجر کے عہدے پر فرائض انجام دے رہے ہیں۔ وہ بنیادی طور پر ایک ایسی بات کے بارے میں وضاحت چاہتے ہیں جس کے بارے میں میرا خیال ہے کہ ہم بہت کچھ سن چکے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ چین کے معاملے میں روایتی طور پر یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ اگر ہم ان کی منڈیوں کو راستہ دیں اور تجارت و دیگر معاملات میں انہیں عالمی اصولوں کے مطابق چلائیں تو وہ جمہوری حکمرانی کے مزید قریب آ جائیں گے۔ اگر ہم گزشتہ 20 برس پر نظر ڈالیں تو ہم نے چین کو اپنی گرفت مضبوط کرتے دیکھا ہے۔ ہم نے ویغور مسلمانوں کے حوالے سے مسائل کا مشاہدہ کیا ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ اس سال کے آغاز میں ہانگ کانگ میں کیا ہوا تھا اور پھر سینیٹر نیس جنوبی بحیرہ چین میں سپریٹلی جزائر پر فوجی سرگرمیوں کی جانب توجہ دلاتے ہیں۔ چنانچہ سوال یہ ہے کہ منڈی کی قوتوں کے ذریعے چین کو جمہوریت کی جانب لانے کی روایتی سوچ درست ہے یا ہمیں اپنے طریقہ کار میں کوئی  بنیادی تبدیلی درکار ہے؟

وزیر خارجہ پومپیو: جی، شاید یہی بنیاد ی سوال ہے۔ کیا ماسٹر سارجنٹ یہیں  کہیں موجود ہیں؟

سینیٹر روتھ: وہ دوسری صف میں ہیں۔ سٹیو نیس، وہاں۔

وزیر خارجہ پومپیو: میں ماسٹر سارجنٹس سے ہمیشہ خوفزدہ رہا ہوں۔ (قہقہہ) نوجوان لیفٹیننٹ کے طور پر مجھے علم تھا کہ اصل انچارج کون ہوتا ہے۔

50 برس تک امریکی پالیسی کا مرکزی نکتہ یہی رہا کہ اگر ہم ان کے ساتھ زیادہ تجارت کریں گے تو ان کے طور طریقوں میں بھی تبدیلی  آئے گی اور وہ غارت گر معاشی سرگرمی بند کر دیں گے۔ ٹھیک ہے، یہی چیز امریکہ میں ہم پر اثرانداز ہوتی ہے۔ چین میں انسانی حقوق سے متعلق اور دیگر تمام مسائل کے ہوتے ہوئے ہمیں یہ امر یقینی بنانے میں سب سے زیادہ دلچسپی ہے کہ ہم ہر ملک کے ساتھ منصفانہ اور مساوی تجارتی ضوابط کے تحت مسابقت کریں اور ہر ملک خودمختاری اور قانون کے احترام سے متعلق انہی بنیادی تصورات کی پاسداری کرے۔ ہمارا نظریہ یہ تھا کہ اگر ہم ان کے ساتھ زیادہ تجارت کریں گے تو وہ زیادہ ترقی پائیں گے اور کروڑوں لوگوں کو غربت سے نکالیں گے، جیسا کہ انہوں نے کر دکھایا ہے، اور اس طرح ان کا طرزعمل بھی تبدیل ہو جائے گا۔

چند ماہ قبل میں نے نکسن لائبریری میں بات کرتے ہوئے واضح کر دیا تھا کہ یہ حکمت عملی ناکام رہی۔ اس نے کوئی فائدہ نہیں دیا۔ صدر نکسن اور ڈاکٹر کسنجر کا یہی تصور تھا۔ ہو سکتا ہے کہ 1970 کی دہائی کے آغاز میں یہ پالیسی درست ہو اور 80 اور 90 کی دہائیوں میں بھی اس سے کام لینا ٹھیک ہو مگر ہم جانتے ہیں کہ اس سے امریکہ کے لوگوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوا کیونکہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ انٹلیکچوئل پراپرٹی (ناقابل سماعت) اور ٹیکنالوجی کی جبری منتقلی کے مسئلے کے باعث امریکہ میں لاکھوں نوکریاں ختم ہو گئیں اور یہ منتقلی یہاں وسکونسن کے کاروباروں سے بھی ہوئی۔ ہم بڑے کاروباروں کے بارے میں سوچتے ہیں مگر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا۔ میں نے خود  کئی سال تک کنساس میں ایک چھوٹا سا کاروبار چلایا ہے ۔ یہ معاملات آپ کے سامنے ہیں۔ وہ ہمارے خاکے دیکھنا چاہتے تھے، وہ ہماری انجینئرنگ دیکھنا چاہتے تھے تاکہ اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔

ہم نے بنیادی طور پر اپنے پاس موجود ذرائع سے کام لینا ہے۔ امریکہ کو اپنی طاقت کے بل بوتے پر صرف یہی مطالبہ کرنا ہے کہ چین کے ساتھ ہر معاملے میں منصفانہ اور دوطرفہ تعلقات ہونے چاہئیں۔ اسی سوال کا ایک اور جزو بھی ہے کہ صدر ٹرمپ اسے کیسے دیکھنا چاہتے ہیں؟ آج سے پانچ، دس، پندرہ یا بیس سال کے بعد امریکہ چین تعلقات کیسے ہوں گے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ تب دونوں ممالک کے مابین تعلق منصفانہ اور متوازن ہو گا جس میں کوئی ملک دوسرے کو دھمکاتا نہیں ہے اور دوسرے ممالک کے روزگار کو نقصان نہیں پہنچاتا۔ ہم اسی جانب بڑھ رہے ہیں۔

لہٰذا جب چین تجارتی میدان میں منصفانہ اور مساوی بنیادوں پر مسابقت کرے گا تو ہم اس کا خیرمقدم کریں گے۔ تاہم بہت سے معاملات میں ہم اس سے برعکس صورتحال کا مشاہدہ کرتے ہیں جو کہ ایک غیرمساوی تعلق ہے جہاں ملکیت کا احترام نہیں ہوتا، جہاں غلط کاری کا ازالہ نہیں ہے، غلط کاموں کا کوئی عدالتی ازالہ نہیں ہوتا  اور یہ ایک غارت گر سرگرمی ہے جسے جاری رہنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

سینیٹر روتھ: شکریہ۔

وزیر خارجہ پومپیو: تجارت میں مزید اضافے سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ اس کے بجائے یہ پالیسی ان کے غیرمساوی اور جابرانہ  طرزعمل کو اور بھی  شدید کر دے گی۔

سینیٹر روتھ: اگلا سوال ایک طرح سے اسی کا تسلسل ہے جو کہ سپیکر رابن واس نے کیا ہے۔ آپ کچھ دیر پہلے ان سے مل چکے ہیں۔ وہ یہاں وسکونسن میں پاپ کارن کا چھوٹا سا کاروبار چلاتے ہیں۔ ان کا سوال یہ ہے کہ گزشتہ چند دہائیوں میں بالخصوص گزشتہ دس برس میں چین کی سرگرمیوں میں وسعت آئی ہے اور وہ دنیا میں سرمایہ کاری کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ شروع کیا جس کا بڑا حصہ تیسری دنیا کے ممالک میں ہے مگر یورپ کے بعض ترقی یافتہ ممالک بھی اس کا حصہ ہیں۔ وہ اپنی ہواوے ٹیکنالوجی، 5جی ٹیکنالوجی کو یورپ بھر میں اور دیگر جگہوں پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ امریکہ میں بہت سے مبصرین یا ماہرین یہ تجویز دے رہے ہیں کہ یہ سب کچھ اس لیے ہو رہا ہے کہ امریکہ کی موجودہ انتظامیہ کے ان طاقتوں سے تعلقات کشیدہ ہیں اور اسی لیے وہ امریکہ کے بجائے کسی اور جانب دیکھ رہی ہیں۔

لہٰذا میرے خیال میں سوال یہ ہے کہ دوسرے ممالک میں چین کی بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری سے امریکہ کی خارجہ اور معاشی پالیسی کے مفادات کو کون سا خطرہ لاحق ہے۔

وزیر خارجہ پومپیو: جی، یہ مسئلہ موجودہ امریکی انتظامیہ سے کہیں پرانا ہے اور میں یہ بات سیاسی تناظر میں نہیں کہہ رہا۔ یہ محض گزشتہ ڈیموکریٹ حکومت کا پیدا کردہ نہیں ہے بلکہ یہ پچیس تیس سال پرانا مسئلہ ہے۔ مگر یہ سیاسی مسئلہ نہیں ہے۔

واشنگٹن میں دونوں سیاسی جماعتوں  کا چینی کمیونسٹ پارٹی کی جانب سے لاحق مسائل کی بابت اتفاق ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اس معاملے میں ٹرمپ انتظامیہ نے یہ کام  کیا ہے کہ اس نے پہلی مرتبہ اس مسئلے پر سنجیدہ توجہ دی ہے۔ اسے یہ احساس ہے کہ اس دریختگی  کے ہر پہلو پر قابو پانے میں کئی سال لگیں گے کیونکہ  یہ مسئلہ پچھلے پچیس سے تیس سال میں اس شکل کو پہنچا ہے۔ آپ نے تین مثالیں دیں۔ میں ان میں ایک پر بات کروں گا جو کہ بے حد اہم ہے۔ اس کا تعلق ٹیلی مواصلاتی ڈھانچے سے ہے۔ آپ نے خاص طور پر ہواوے کا ذکر کیا مگر مسئلہ اس سے کہیں زیادہ بڑا ہے۔ ہم سبھی کے بارے میں معلومات الیکٹرانک نظام میں موجود ہیں۔ ہمارے بچے بھی اس میں شامل ہیں۔ یہ ہر کہیں ہے۔ آج ہم اسی طرح کاروبار کرتے ہیں۔ تفریحی سرگرمیوں کا تعلق بھی اسی سے ہے۔ اگر یہ معلومات کسی ناقابل اعتماد نیٹ ورکس پر جاتی ہیں تو ہم سبھی خطرے کی زد میں ہوں گے۔

اسی لیے ٹرمپ انتظامیہ نے کہا ہے کہ ہم اب ایسا ہونے نہیں دیں گے۔ ہم ناقابل اعتماد نیٹ ورکس کو امریکی اطلاعاتی نظام کا حصہ بننے نہیں دیں گے۔ ہم کچھ عرصہ میں خدمات کا اپنا نظام بنائیں گے جس پر ہم انحصار کر سکیں اور جو مغربی اقدار اور مغربی اصولوں کا حامل ہو گا اور جس میں شفافیت اور کھلے پن کو مرکزی حیثیت حاصل ہو گی۔ ہمیں علم ہو گا کہ انفارمیشن پراپرٹی کہاں ہو گی۔ یہ آسان کام نہیں ہے مگر ہم اس حوالے سے حقیقی پیش رفت کریں گے۔

جب ہم اس میدان میں آئے تو ہواوے عروج پر تھی، زیڈ ٹی ای عروج پر تھی، یہ سب چینی ٹیلی مواصلاتی ادارے ہیں۔ وہ سرکاری اداروں کے طور پر سامنے آئے اور انہیں حکومت کی جانب سے مدد مل رہی تھی۔ اس طرح اگر کوئی چھوٹا سا ملک ہے تو اسے بتایا گیا کہ یہ سستا کام ہے اور مفت ہے۔ حالانکہ یہ بے قیمت نہیں ہے۔ (قہقہہ)

سینیٹر روتھ: ٹھیک ہے۔

وزیر خارجہ پومپیو: اس کی قیمت چکانا پڑتی ہے۔ ہو سکتا ہے آپ یہ قیمت براہ راست ادا نہ کریں۔ ہو سکتا ہے اس کی کوئی رسید بھی نہ ہو۔ مگر اس کی ایک حقیقی قیمت ضرورہوتی  ہے۔ چنانچہ ہم نے ایک راستہ اختیار کیا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ ایک چیز پر قابو پانا ہمارے اختیار میں ہے اور وہ امریکہ کی معلومات ہیں۔ ہم یہ مطالبہ کریں گے کہ امریکہ کی ملکیتی معلومات صرف ایک قابل اعتماد کلاؤڈ یا نیٹ ورک میں سے ہی گزر سکتی ہیں اور یہ صاف لائنیں اور ٹیلی فون لائنیں ہوں گی۔ ہم ایسا کر گزریں گے۔ مجھے اس کا پورا یقین ہے۔

ویسے یہ چین مخالف معاملہ نہیں ہے۔ جو کوئی بھی ایسا کرنا چاہے اسے تصدیقی عمل سے گزرنا ہو گا۔ اگر ٹیکنالوجی ہمارے تصدیقی عمل سے مطابقت رکھتی ہے تو اسے کام کرنے کی اجازت ہو گی۔ اگر ہمیں یقین ہو گا کہ ہماری معلومات محفوظ  ہیں تو پھر کوئی بھی کام کر سکتا ہے۔ اس کا ذریعہ غیرمادی ہے۔ پھر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ یہ ٹیکنالوجی چین کی ہے یورپ کی یا اسے وسکونسن میں بنایا گیا ہے۔ اپنی قومی سلامتی کی خاطر ہمارے لیے ایسا کرنا لازمی ہے۔ بصورت دیگر ہم ایک ایسے اطلاعاتی نظام میں رہیں گے جس کی شکل ویسی ہو گی جیسی آج چین میں دکھائی دیتی ہے۔ بند اور آتشیں دیواروں میں مقید ،جہاں عام شہریوں کو خانوں میں بانٹا گیا ہے اور مرکزی حکومت کی جانب سے بڑے پیمانے پر آمرانہ ہتھکنڈوں سے کام لیا جاتا ہے۔

یہ وہ دنیا نہیں ہے جس میں امریکی عوام یا یورپ یا افریقہ یا ایشیا کے لوگ رہنا چاہتے ہیں۔ ہم نے ٹیلی مواصلاتی ڈھانچے اور دوسری جگہوں پر تبدیلی لانے کا کام شروع کر دیا ہے جس سے آزادی اور رہائی کی جانب درست راہ تخلیق کرنے کا آغاز ہوتا ہے۔

سینیٹر روتھ: ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کے کچھ مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں جیسا کہ یورپی ممالک میں خاص طور پر ہوواے سے دوری اختیار کرنے جیسے واقعات سے عیاں ہے۔

وزیر خارجہ پومپیو: دیکھیے، ان کی پہلی بات، 12 مراحل پر مشتمل پروگرام کے بارے میں سبھی جانتے ہیں، ٹھیک ہے ناں؟ (قہقہہ) ”میرے ساتھ یہ مسئلہ ہے”۔ دنیا کو اس معاملے  کا سامنا ہے اور ہمیں یہ تسلیم کرنا تھا، ہمیں جو پہلا کام کرنا تھا، میں نے اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلے چھ، آٹھ مہینے دنیا بھر کا سفر کیا اور دوسرے ممالک کو ان خطرات کی بابت معلومات اور حقائق سے آگاہ کرتا رہا۔ ان میں سیاسی خدشات، معاشی خدشات، عسکری خدشات، سلامتی اور آپ کے شہریوں کی نجی معلومات کے افشا سے متعلق خدشات شامل تھے۔ اس کوشش سے، دوسروں کے پاس جا کر انہیں اس خطرے کا احساس دلانے سے درحقیقت دنیا کی چینی کمیونسٹ پارٹی سے معاملہ کرنے کے بارے میں سوچ تبدیل ہوئی۔

سینیٹر روتھ: اگلا سوال ہمارے نمائندہ جم سٹینک نے کیا ہے اور یہ تجارتی مسئلے سے متعلق ہے۔ اکثر اوقات جب قومی سطح پر کوئی بات ہوتی ہے تو اس کے فوائد وسکونسن کے شہریوں کے چھوٹے کاروباروں، ان کے کھیتوں اور دیگر شعبوں تک نہیں پہنچتے۔ ہم نے ابتدائی چند سال، کوویڈ بحران تک یہی صورتحال دیکھی ہے جو کہ پنگ پانگ کے کھیل جیسی ہے، ہماری تجارت اور امریکہ و چین کے مابین ٹیرف کے معاملے میں  تلافی کی صورتحال تبدیل ہوتی رہی ہے۔

ان کا سوال یہ ہے کہ ”ہم یہ بات کیسے یقینی بنا سکتے ہیں کہ چین کو تجارت اور مالیاتی معاملات میں اصولوں کی خلاف ورزی پر جوابدہ بنایا جائے اور اس کے ساتھ ساتھی یہ بھی یقینی ہو کہ وسکونسن میں ہماری کاروباری ترقی متاثر نہیں ہو گی؟”

وزیر خارجہ پومپیو: میں صدر ٹرمپ کی جانب سے 2015 میں اپنی پہلی صدارتی مہم اور پھر 2016 میں کئی گئی باتوں کا حوالہ دوں گا۔ انہوں نے یہ بات کی تھی کہ چین کے ساتھ تجارت کے معاملے میں ہم کہاں کھڑے ہیں۔ اگر کنساس میں ایک چھوٹا کاروبار چین میں سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے تو اسے وہاں اپنے پورے کاروبار پر اجارہ نہیں ملے گا۔ اس کے بجائے چین سے تعلق رکھنے والی اسی حجم کی کوئی کمپنی امریکہ میں اپنے پورے کاروبار کی خود مالک ہو گی۔ دونوں ممالک کے مابین ایک دوسرےسے  تجارتی تعلق میں بہت سا فرق تھا۔ چین کی جانب سے امریکی مصنوعات پر بھاری ٹیرف عائد تھے۔

چینی کمیونسٹ پارٹی  دنیا کو اس بات پر  قائل کرنے میں کامیاب رہی کہ چین بدستور ایک ترقی پذیر ملک ہے۔ انہوں نے ڈبلیو ٹی او میں اپنے ترقی پذیر ہونے کے درجے سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ وسکونسن کی کمپنی یا کنساس کی کمپنی کے لیے ان کی سستی چیزوں کا مقابلہ کرنا ممکن نہیں تھا۔ اسی لیے صدر نے ایسے دستیاب ذرائع کی نشاندہی کی کوشش شروع کی جن کے ذریعے صورتحال کو اپنے حق میں تبدیل کیا جا سکے اور دونوں ممالک کے مابین معاشی و تجارتی تعلقات کی نوعیت میں تبدیلی لائے جا سکے۔

چنانچہ اس سلسلے میں پہلی کوشش یہ تھی کہ چین سے رابطہ کیا جائے اور اسے کہا جائے کہ ہم منصفانہ، مساوی اور دوطرفہ تجارتی معاہدے پر بات چیت کرنا چاہتے ہیں، اسی لیے یہ کام ابتدا سے شروع کیا جائے۔ تاہم اس میں ہمیں زیادہ کامیابی نہ ملی۔ چنانچہ ہمیں اپنی معاشی طاقت استعمال کرنے ضرورت پڑی جس میں ٹیرف اور چینی کاروباروں پر حقیقی قیمت نافذ کرنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔ صدر اس بارے میں محتاط ہیں کہ اس سے امریکی کاروبار پر بھی اثر پڑے گا اور کچھ لوگ فائدے میں رہیں تو کچھ نقصان اٹھائیں گے۔ یقینی طور پر کنساس کی زرعی کمیونٹی بھی ٹیرف کی پابندیوں سے متاثر ہوئی۔

ہمیں امریکہ چین تعلقات کی نوعیت کو تبدیل کرنا ہے۔ ایسا کرنا لازمی ہے۔ ہمیں دوطرفہ تعلقات میں مساوی حیثیت درکار ہے۔ اگر اس سلسلے میں ہمیں کوئی مختصر مدتی نقصان اٹھانا پڑتا ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ بیشتر امریکی یہ نقصان برداشت کرنے کو تیار ہیں۔ یہی سیدھی راہ ہے۔ آزادی اور جمہوریت کے لیے ایسا کرنا ضروری ہے۔ بالاآخر اس سے ان کے کاروبار کو بھی فائدہ پہنچے گا۔۔ اسی لیے ہم نے اپنے ہاں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ کاروباری حوالے سے بہت اہم تزویراتی تبدیلی ہو گی جس سے وسکونسن میں چھوٹے کاروبار سے لے کر کنساس اور آئیوا جیسی جگہوں پر درمیانے درجے کے کاروباروں اور دنیا بھر میں کام کرنے والے بڑے کاروباروں کو فائدہ پہنچے گا جہاں انہیں منصفانہ اور متوازن تجارت کا حقیقی موقع میسر آئے گا۔ یہی ہمارا مقصد ہے۔ محصولات عائد کرنے کا یہی مقصد ہے۔ صدر اس بارے میں بے حد واضح موقف رکھتے ہیں کہ انہیں ایسی دنیا پسند ہے جہاں کوئی محصول نہ ہو اور کوئی تجارتی رکاوٹیں نہ ہوں ۔۔۔

سینیٹر روتھ: ٹھیک ہے۔

وزیر خارجہ پومپیو: ۔۔۔ سب کے لیے کُھلے مواقع ہوں اور جن میں بہترین صلاحیت ہو وہ مقابلہ کریں۔ مجھے یقین ہے کہ وسکونسن کے لوگ موقع ملنے پر کامیاب رہیں گے۔ مگر یہ مقصد حاصل کرنے کے لیے کچھ قیمت بھی ادا کرنا ہو گی اور صدر وسکونسن کے کاروباروں اور ملک بھر کے کاروباروں کے فائدے کے لیے ایسا کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔

شکریہ: اگلا سوال میرا جانب سے ہے۔

وزیر خارجہ پومپیو: ٹھیک ہے۔

سینیٹر روتھ: یہ سوال ناقابل انتقال حقوق سے متعلق آپ کے کمیشن سے ہے جس پر میں دلچسپی سے نظر رکھے ہوئے ہوں۔ میں آپ کو یہ موقع دینا چاہتا ہوں کہ آپ سبھی کو بتائیں کہ کیسے آپ نے یہ کمیشن قائم کرنے کا فیصلہ کیا اور اس سے کون سے نتائج حاصل ہوئے اور آپ اس سے خارجہ پالیسی کے حوالے سے کیا امید رکھتے ہیں۔

وزیر خارجہ پومپیو: میں آپ کے سوال کو سراہتا ہوں۔ جب لوگ انسانی حقوق کی بات کرتے ہیں تو ہمارے لیے اسے اہمیت نہ دینا آسان ہوتا ہے۔ یہ عارضی طرح کی چیز معلوم ہوتی ہے اور یوں لگتا ہے کہ یہ مقامی نہیں بلکہ اس کا تعلق عالمی معاملات سے ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے بانیوں نے ہمیں جو کچھ دیا اس کی بنیاد یہی بنیادی حقوق ہیں جو ہم سبھی کو حاصل ہیں۔ ان میں اپنی مرضی کا عقیدہ اپنانے کا حق، اپنی ملکیتی جائیداد اور امریکہ بھر میں ملکیتی حقوق کے تحفظ کا حق اور کسی سے اختلاف کی صورت میں اپنی بات آزادانہ طور سے کہنے کا حق شامل ہیں۔ امریکہ میں بعض اوقات ہم ان پر دھیان نہیں دیتے کیونکہ ہمیں یہ حقوق حاصل ہیں۔ میں نےاپنے دفتر خارجہ کو دنیا بھر کے شہریوں کے لیے کام کرتے دیکھا ہے اور اس سے یہ سوال جنم لیتا ہے کہ کون سے حقوق، کتنے حقوق اور ہم ان حقوق کے لیے کتنا لڑیں گے؟

اسی لیے میں نے  میری این گلینڈن نامی خاتون کی قیادت میں کچھ لوگوں سے کہا کہ وہ امریکی خارجہ پالیسی کو ہمارے بانیوں کی روایات کے تحت دوبارہ ترتیب دیں۔ یہ وہ چیزیں ہیں جنہوں نے اس قوم کو اس قدر منفرد اور خاص بنا دیا ہے۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ دفتر خارجہ کے پاس اصولوں کا ایسا مجموعہ ہو جو دنیا بھر میں ہمارے اقدامات کی رہنمائی کرے اور ہمیں بتائے کہ کون سی چیز ہمارے لیے ضروری ہے۔ چونکہ ہر انسان خدا کا پرتو ہے اس لیے کوئی حکومت ہمارے بنیادی حقوق ہمیں دے سکتی ہے اور نہ ہی واپس لے سکتی ہے۔ چنانچہ انہوں نے چند ماہ پہلے ایک رپورٹ لکھی۔ میں آپ سے اصرار کروں کہ اس رپورٹ پر نظر ڈالیں اور اس کی ورق گردانی کے لیے پچیس تیس منٹ نکالیں۔ یہ رپورٹ آپ کو یاد دلائے گی کہ وسکونسن اور امریکہ کے لیے خاص کیا ہے اور ہم کیونکر اس قدر کامیاب رہے ہیں اور کیسے ہم امریکہ کو ایسی جگہ بنا رہے ہیں جہاں آنے کی خواہش دنیا بھر کے لوگ کرتے ہیں، وہ یہاں کا سفر کرنا چاہتے ہیں، یہاں کی زندگی میں شامل ہونا چاہتے ہیں اور اس کی تقلید کرنا چاہتے ہیں۔

ہمارے بانیوں کے دیے ہوئے  یہ حقوق اس قدر بنیادی نوعیت کے ہیں کہ انہیں برقرار رکھنا اور ان کا تحفظ کرنا ہمارا فرض ہے۔ میں نے یہ امر یقینی بنانے کی کوشش کی کہ میری ٹیم، دفتر خارجہ کی ٹیم تاریخ میں اپنی بنیاد کو دوبارہ تلاش کرے اور حقوق سے متعلق لفاظی کی بہتات میں نہ کھو جائے جس سے ایران، وینزویلا اور چین جیسے ممالک فائدہ اٹھاتے ہیں۔ چین میں وہ انسانی حقوق کی بات کرتے ہیں اور یہ ہمارے سامنے ہے کہ وہاں حقیقت میں کیا ہو رہا ہے۔ میں یہ یقینی بنانا چاہتا ہوں کہ ہمارے پاس اس حوالے سے مناسب زبان ہو، مکالمہ ہو اور میری پوری ٹیم کے لیے یہ بنیادی سمجھ بوجھ ہمہ وقت دستیاب ہو۔

سینیٹر روتھ: جواب دینے کا شکریہ۔ اگلا سوال سینیٹر پیٹ ٹیسٹن کی جانب سے آیا ہے اور یہ بھی انسانی حقوق کے موضوع پر ہے۔ وہ نیلا ماسک پہنے عقبی سمت میں درمیانی نشستوں پر بیٹھے ہیں۔ ایسی افواہیں ہیں کہ امریکی حکومت چین میں ویغور مسلمانوں کو ظلم کا شکار قرار دینے پر غور کر رہی ہے۔ کیا آپ کچھ بتا سکتے ہیں کہ اس معاملے میں کیا ہونے جا رہا ہے اور اس کے کیا اثرات ہو سکتے ہیں اور یہ معاملہ آپ کے لیے اور آپ کی انتظامیہ کے لیے اسقدر اہم کیوں ہے ۔

وزیر خارجہ پومپیو: امریکی انتظامیہ نے دنیا بھر میں مذہبی آزادی کو اپنی حقیقی ترجیح بنایا ہے۔ صدر نے قریباً ایک سال پہلے اقوام متحدہ میں اس بارے میں بات کی تھی کہ انسان کو اپنے ضمیر کے مطابق عمل کرنے کی اہلیت اور حق ملنا چاہیے۔ بعض لوگ کوئی عقیدہ اختیار کرنا نہیں چاہیں گے۔ اسی طرح دنیا میں عیسائی، مسلمان، یہودی اور دیگر لوگوں کو بھی یہی آزادی ہونی چاہیے۔ چین کے اس مغربی حصے کی صورتحال یہ ہے کہ وہاں لوگوں کے ایک گروہ کو ان کے اعتقادات اور ان کی نسل کی بنیاد پر انتہائی دہشت ناک سلوک کا سامنا ہے، انہیں جبراً بانجھ بنایا جا رہا ہے، حمل جبراً ساقط کیے جا رہے ہیں اور وہ لوگ چوبیس گھنٹے زیرنگرانی ہیں۔

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق قریباً دس لاکھ لوگ اس خوفناک صورتحال میں پھنسے ہیں اور امریکہ کی ذمہ داری ہے کہ اس مسئلے پر آواز اٹھائے۔ ہم اس حوالے سے استعمال کی جانے والی زبان پر غور کر رہے ہیں اور دیکھ رہے ہیں کہ اس صورتحال کو کیسے بیان کیا جائے۔ جب امریکہ انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی پر بات کرتا ہے تو ہم اپنے الفاظ کا چناؤ وضاحت اور احتیاط کو مدنظر رکھتے ہوئے کرتے ہیں کیونکہ ایسی باتوں میں بے حد وزن ہوتا ہے۔ تاہم یاد رہے کہ ان جگہوں پر جو کچھ ہو رہا ہے اس بارے میں دنیا کو آگاہی مل رہی ہے اور ہم صرف یہی کہتے ہیں کہ  چینی حکومت ایسی سرگرمی بند کرے اور ان لوگوں کے ساتھ احترام سے پیش آئے جو کہ انسان ہونے کے ناطے ان کا فطری حق ہے۔ بس اتنی سی بات ہے۔

سینیٹر روتھ: مجھے یاد ہے اس وقت میں چھوٹا سا بچہ تھا جب میں نے ٹیلی ویژن کی سکرین پر دیوار برلن کو گرتے اور اُن لوگوں کو آزادی ملتے دیکھا ۔۔۔۔

وزیر خارجہ پومپیو: آپ خاصے کم عمر ہیں۔

سینیٹر روتھ: میں، جی بالکل (قہقہہ) جی۔ اور اب ہم ہانگ کانگ کے بارے میں بات کریں گے۔ میں نے قبل ازیں ہانگ کانگ کے طلبہ کی انجمن کے سربراہ مارکو لیم کا تعارف کرایا تھا۔وہ پوچھتے ہیں کہ  ہانگ کانگ میں ہم جو صورتحال دیکھ رہے ہیں وہ بالکل مختلف ہے اور چین اور اس کے سلامتی کے قانون کے باعث یہ شہر مخالف سمت میں جا رہا ہے۔ مجھے علم ہے کہ برطانیہ وہاں کے لوگوں کو ویزاے دینے کے لیے کام کر رہا ہے یا کم از کم کچھ لوگوں کے لیے ایسا ضرور ہو رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آیا امریکہ اس معاملے میں کچھ کر سکتا ہے اور کیا آپ لوگ ہانگ کانگ میں جمہوریت پسند لوگوں کی مدد کے لیے کچھ سوچ رہے ہیں؟

وزیر خارجہ پومپیو: جی، ہم نے اس معاملے میں کچھ اقدام ضرور کیا ہے۔ یہ واقعتاً بدقسمتی کی بات ہے۔ یہ اس بات کی مثال ہے کہ ہانگ کانگ میں آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ چینی کمیونسٹ پارٹی کی جانب سے وعدہ خلافی کی ایک اور مثال ہے۔ 2015 میں انہوں نے وعدہ کیا  تھا کہ وہ جنوبی بحیرہ چین میں فوجی سرگرمیاں نہیں کریں گے جبکہ انہوں نے اپنا یہ بنیادی وعدہ بھی توڑا ڈالا ہے۔ ہانگ کانگ کے حوالے سے انہوں نے برطانیہ سے 50 سال کے لیے وعدہ کیا تھا کہ وہ ہانگ کانگ کو بنیادی  طور پر مختلف انداز میں چلائیں گے اور وہاں ایک ملک دو قانون کا نظام رائج ہو گا۔ اقوام متحدہ نے معاہدے کی تصدیق کی ہے۔ تاہم وہ اپنے وعدےسے پھِر گئے۔ میں سمجھتا ہوں کہ جب ممالک اپنے کیے وعدے توڑتے ہیں تو سنگین صورتحال جنم لیتی ہے۔

اسی لیے ہم ہانگ کانگ کے آزاد لوگوں کی مدد کے لیے جو کچھ کر سکتے تھے وہ کیا۔ یہ ان کی جنگ ہے۔ برطانیہ نے کہا ہے کہ  ہانگ کانگ میں موجود آپ لوگوں کے پاس اب بھی آزادی کا ڈیڑھ عشرہ موجود ہے، ان کے ہانگ کانگ والوں سے بہت خاص تعلقات ہیں اور ان کے ویزا قوانین بھی ہم  سے مختلف ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ ان میں سے کچھ لوگوں کو اپنے ساتھ لیں گے۔

مگر ہم نے اپنا کام شروع کر دیا ہے جیسا کہ صدر نے اپنے انتظامی حکم میں کہا ہے اگر چینی حکومت ہانگ کانگ کو ایک اور کمیونسٹ شہر کی طرح سمجھے گی تو پھر ہم بھی ایسا ہی کریں گے۔ چنانچہ صدر نے امریکہ اور ہانگ کانگ کے مابین قبل ازیں خاص تعلق اور اس کے ساتھ مرکزی چین سے ہٹ کر کیے جانے والے تمام معاہدے ختم کرنے کا حکم دیا ہے۔ اگر چین ہانگ کانگ کے ساتھ یہی سلوک کرے گا اور ہانگ کانگ کے لوگوں کو ملک کے دیگر حصوں کے لوگوں جیسا ہی سمجھے گا تو پھر امریکہ بھی یہی کچھ کرے گا۔ ہم نے اس معاملے میں بہت سی پیشرفت کی ہے جس کے ساتھ ساتھ ہم ان لوگوں کے جمہوری حقوق کی بھی اسی طرح حمایت کرتے رہے ہیں جس طرح ہمیں امید ہے کہ چین بھر کے لوگوں کو وہ انسانی حقوق اور آزادیاں ملیں گی جن کے وہ بھرپور طور سے حقدار ہیں۔

سینیٹر روتھ: ٹھیک ہے، جناب وزیر خارجہ اب ہمارے پاس بہت کم وقت رہ گیا ہے۔ تاہم میں سمجھتا ہوں کہ اس مختصر بات چیت میں ہی سبھی پر یہ واضح ہو گیا ہے کہ آج کی دنیا میں بعض سنگین مسائل موجود ہیں جن پر قابو پایا جانا ضروری ہے اور ہم ان مسائل پر آپ کے قائدانہ کردار کی قدر کرتے ہیں۔ کیا آپ آخر میں یہاں وسکونسن سے تعلق رکھنے والے ہمارے قانون سازوں، پالیسی سازوں اور کاروباری افراد سے کوئی بات کہنا چاہیں گے؟

وزیر خارجہ پومپیو: میں خود کو صنعت کار سمجھتا ہوں۔ کانگریس کا انتخاب لڑنے سے پہلے میں نے صنعت کاری سے ہی آغاز کیا تھا۔ اب مجھے امریکہ کے وزیر خارجہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ آپ کو علم ہونا چاہیے کہ میں ماضی میں کنساس میں اپنے خاندان کی زندگی پر غور کرتا ہوں جہاں ہماراایک فارم ہے۔ یہ ایک چھوٹی سی جگہ ہے جو غالباً میرے چچازاد بھائی بہنوں کے پاس ہے۔ ان چیزوں کو غیرمربوط سمجھنا آسان ہے، مگر دنیا میں امریکہ کا مقام، ہماری صلاحیت اور ہماری معاشی قوت دنیا بھر میں اچھے نتائج دینے کے لیے میری اہلیت میں مرکزی اہمیت رکھتی ہے۔ چنانچہ میں آپ سبھی کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جو علی الصبح جاگتے ہیں، اپنے کام پر جاتے ہیں اور اپنی کمپنی کی ساکھ  کے لیے بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ میں ہر اس بچے کا شکرگزسر ہوں جو سکول جاتا اور ہرممکن حد تک کڑی محنت سے پڑھائی کرتا ہے۔ مجھے امید ہے کہ آپ تمام لوگ ریاضی، سائنس اور انجینئرنگ پڑھیں گے۔ ہمیں امریکہ میں اس تکنیکی اہلیت کی زیادہ ضرورت ہے۔

 جب صدر ٹرمپ اور میں دنیا بھر کا سفر کرتے ہیں اور اہم نوعیت کے ایسے پیچیدہ مسائل سے نبردآزما ہوتے ہیں تو ہماری توجہ اس تصور پر ہوتی ہے کہ اگر ہم یہ کام امریکہ میں درست طور سے انجام دے لیں، جس کے لیے صدر ”پہلے امریکہ” کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں ۔۔ اگر ہم یہ کام یہاں درست طور سے انجام دے لیں تو یقیناً آپ سبھی کو اس سے فائدہ ہو گا۔ ہم وسکونسن کے لوگوں کو فائدہ پہنچائیں گے اور پورے امریکہ کے لوگوں کو فائدہ پہنچائیں گے مگر ہم دنیا بھر میں اچھائی کی قوت بھی ہوں گے۔ ایک کامیاب، خوشحال اور آزاد امریکہ دنیا بھر کے لوگوں کے لیے یکساں مواقع کی فراہمی کے لیے ایک مطلق ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی لیے ہماری پوری توجہ یہ بات یقینی بنانے پر مرکوز ہے کہ ہم ان جگہوں کو یاد رکھیں جہاں سے ہم آئے ہیں اور جب ہم نے یہ بات سمجھ لی اور جب ہم نے امریکہ کے لیے اچھے نتائج دینے میں کامیابی حاصل کر لی تو پھر وزیر خارجہ کی حیثیت سے میرا کام مزید ثمرآور ہو جائے گا۔

مجھے یہاں بلانے کے لیے آپ کا شکریہ۔ یہ میرے لیے بیحد خوشی اور مزے کی بات ہے اور یہاں آپ کے ساتھ موجودگی میری خوش قسمتی ہے۔ آپ وسکونسن کی ترقی کے لیے روزانہ جو کچھ کرتے ہیں اس پر میں آپ کا شکرگزار ہوں۔ آپ سبھی پر رحمت ہو۔

سینیٹر روتھ: شکریہ۔ ہمارے ریاستی دارالحکومت آنے پر سپیکر واس اور ہماری پوری مجلسِ قانون ساز آپ کا شکریہ ادا کرتی ہے۔ ہم آپ کی قدرافزائی کرتے ہیں۔

وزیر خارجہ پومپیو: آپ تمام لوگوں کا شکریہ۔ گُڈ لک۔ (تالیاں)


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں