rss

وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو کی پریس کانفرنس

Português Português, English English, Español Español, العربية العربية, Français Français, Русский Русский, हिन्दी हिन्दी

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
14 اکتوبر 2020

پریس بریفنگ روم
واشنگٹن، ڈی سی

 

وزیر خارجہ پومپیو: سبھی کو صبح بخیر۔ خوش آمدید۔ آج میں ایک ایسے موضوع پر بات کرنا چاہتا ہوں جو زیادہ توجہ کا متقاضی ہے اور وہ موضوع یہ ہے کہ امریکہ دنیا میں اچھائی کی طاقت ہے۔

گزشتہ ہفتے ورلڈ فوڈ پروگرام کو دنیا بھر میں بھوک کا خاتمہ کرنے اور امن کی صورت حال بہتر بنانے کی کوششوں پر 2020کے نوبیل انعام برائے امن سے نوازا گیا۔

ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈیوڈ بیسلے امریکی شہری اور ریاست جنوبی کیرولائنا کے سابق گورنر ہیں اور گزشتہ چند برس کے دوران اس ادارے کی کامیابی کا بہت بڑا کریڈٹ انہیں اور ان کی ٹیم کو جاتا ہے۔ ڈبلیو ایف پی کا تمام تر انحصار رضاکارانہ طور پر فراہم کردہ وسائل پر ہوتا ہے۔ 2017 میں اس ادارے کا بجٹ 6 بلین ڈالر تھا جسے ڈیوڈ بڑھا کر 2019 میں 8 بلین ڈالر تک لے آئے۔

یہ رقم حقیقی طور سے زندگیاں بچانے کے کام آئی۔ ادارے کو امن کا نوبیل انعام دیے جانے سے اسی حقیقت کا اظہار ہوتا ہے۔ ڈبلیو ایف پی اب 80 ممالک میں 100 ملین سے زیادہ بھوکے مردوخواتین اور بچوں کو خوراک مہیا کر رہا ہے۔ ڈبلیو ایف پی کے بجٹ کا 43 فیصد امریکہ نے مہیا کیا جو دنیا کے کسی بھی ملک کی جانب سے اس ادارے کو دی جانے والی اب تک سب سے بڑی مالی معاونت ہے اور یہ چین کی جانب سے مہیا کردہ مالی وسائل سے سات سو گنا زیادہ جبکہ دوسرے سب سے بڑے عطیہ دہندہ جرمنی سے ڈھائی گنا سے بھی زیادہ ہے۔

ایسے حالات میں یہ امداد اور بھی اہمیت کی حامل ہے جب چین کے اقدامات کے نتیجے میں بے قابو ہونے والی وبا نے دنیا بھر میں اشیا کی ترسیل کے نظام اور خوراک کی فراہمی  میں خلل ڈالا ہے۔ امدادی میدان میں امریکہ کا قائدانہ کردار بدستور قائم ہے اور اچھے نتائج دے رہا ہے یہ چین کی جانب سے دنیا بھر میں بھوک کا شکار لوگوں کے ساتھ کیے گئے سلوک سے بالکل برعکس ہے۔

یہاں دفتر خارجہ میں موجود ٹیم یورپ میں تنازعات کا حل نکالنے کے لیے بھی کڑی محنت کر رہی ہے:

امریکہ او ایس سی ای منسک گروپ کے معاون سربراہ کی حیثیت سے آزربائیجان اور آرمینیا کو ان کے تنازع کے پرامن اور پائیدار تصفیے پر پہنچنے میں مدد دینے  کے لیے بدستور پُرعزم ہے۔ ہم دونوں ممالک سے کہتے ہیں کہ وہ جنگ بندی کے لیے اپنے وعدے پورے کریں اور شہری علاقوں کو ہدف بنانا بند کر دیں۔

بیلارس میں ہم نے مستقل مزاجی سے وہاں کے لوگوں کی حمایت کی ہے جو جمہوریت کو دبانے پر اپنے ملک کے رہنماؤں سے جواب دہی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ہم نے یورپ میں اپنے جمہوری اتحادیوں اور کینیڈا کے ساتھ مل کر بیلارس میں جبر کے ذمہ داروں پر پابندیاں عائد کر کے یہی کچھ کیا۔

ہم امریکی شہری وٹالی شکلیاروو کی فوری رہائی کا مطالبہ بھی دہراتے ہیں۔

آخر میں ہم ایک مرتبہ پھر روس سے کہتے ہیں کہ وہ ایلکس نیولنی کے خلاف اعصابی نقصان پہنچانے والے کیمیائی مادے کے حملے کی تحقیقات کے لیے عالمی برداری سے پوری طرح تعاون کرے۔

آج مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے بھی خوشی ہے کہ دفتر خارجہ میں جمہوریت، انسانی حقوق و محنت کے شعبے میں معاون وزیر خارجہ رابرٹ ڈیسٹرو ۔۔ وہ یہاں موجود ہیں، آپ کو دیکھ کر خوشی ہوئی ۔۔ تبت سے متعلق امور پر امریکہ کے خصوصی رابطہ کار کی حیثیت سے بھی کام کریں گے۔

وہ بیجنگ میں اشتراکی حکومت اور دلائی لامہ کے مابین بات چیت کو فروغ دینے، تبتیوں کی مخصوص مذہبی، ثقافتی اور لسانی شناخت کے تحفظ، ان کے انسانی حقوق کے احترام سے متعلق صورتحال میں بہتری لانے اور بہت سے دیگر امور پر توجہ رکھیں گے۔

یقیناً گزشتہ روز چین، روس اور کیوبا نے انسانی حقوق کی کونسل میں نشستیں جیتی ہیں جو کہ غاصبوں کی فتح  اور اقوام متحدہ کے لیے سبکی کا باعث ہے۔ یہ ایک مثال اور اس حقیقت کا اشارہ ہے کہ اس ادارے کی رکنیت چھوڑنے کا ہمارا فیصلہ کیوں درست تھا۔ جب ادارے ناقابل اصلاح ہو جائیں، جیسا کہ گزشتہ روز کی صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے، تو صدر ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ ان کا حصہ نہیں رہے گا۔

گزشتہ ہفتے وزیر ڈیووس اور میں نے امریکہ بھر میں یونیورسٹیوں اور کے۔12 منتظمین کو خطوط بھیجے جن میں انہیں خبردار کیا گیا تھا کہ کیسے سی سی پی کنفیوشس انسٹیٹیوٹس اور کنفیوشس کلاس رومز کو اپنے پروپیگنڈے اور علمی آزادی کا گلا گھونٹنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔

اس سے ہٹ کر گزشتہ روز ہم نے سرکاری طور پر اپنی پالیسی کا اعلان کیا جس میں یہ درخواست کی گئی کہ غیرملکی حکومتوں بشمول چین سے رقم وصول کرنے والے تھنک ٹینک اس بارے میں معلومات کو عام کریں۔ ہمارے خیال میں یہ ایک اہم بات ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ امریکہ کے عوام کو علم ہو کہ کون ہمارے ان تھنک ٹینکس پر اثرانداز ہو رہا ہے تاکہ وہ ان اداروں کے شائع شدہ کام کا بہتر طور سے تجزیہ کر سکیں۔

یقیناً میں حال ہی میں اس خطے سے واپس آیا ہوں۔ گزشتہ ہفتے ٹوکیو میں کواڈ اجلاسوں کے موقع پر میری اپنے آسٹریلوی، انڈین اور جاپانی ہم منصبوں سے کامیاب ملاقاتیں ہوئیں۔ اس دوران ہم نے بحرالکاہل میں جزئر پر مشتمل ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات مضبوط بنانے پر بھی تبادلہ خیال کیا اور امریکہ نے 2020 میں خطہ الکاہل کو فراہم کیے جانے والے نئے مالی وسائل کے لیے 200 ملین ڈالر سے زیادہ رقم دینے کا اعلان کیا جو کہ ہمارے ‘خطہ الکاہل کے لیے وعدے’ کا حصہ ہے۔ حال ہی میں دفتر خارجہ کے حکام نے الکاہل میں جزائر پر مشتمل 12 ممالک کے سفارت خانوں کے سربراہوں کے ساتھ ورچوئل بات  چیت کے سلسلے کا انعقاد بھی کیا۔ اس دوران کوویڈ۔19 کے خلاف اقدامات، معاشی و ترقیاتی تعاون اور خطے میں نیز وسیع تر طور سے ہند۔الکاہل میں مشترکہ اقدار کے فروغ پر بات چیت ہوئی۔

میں کاروباروں اور حکومتی رہنماؤں کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ تیسرا انڈو۔پیسیفک بزنس فورم اس مہینے کے آخر میں 28 اور 29 اکتوبر کو ہو رہا ہے۔ میں نے 2018 میں پہلے انڈو۔پیسیفک بزنس فورم کا انعقاد کیا تھا اور میں اس سال ایک مرتبہ پھر اس موقع پر خطاب کا منتظر ہوں۔

ہم دنیا کے دیگر حصوں میں بھی اچھائی کی طاقت ہیں۔

نائب وزیر خارجہ کیتھ کریچ حال ہی میں یورپ کے آٹھ ملکی دورے سے واپس آئے ہیں۔ دیکھیے، یہ واضح ہے کہ جی5 کے حالات تبدیل ہو چکے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ آپ میں سے کسی نے اس بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا تھا۔ آپ ماضی کا جائزہ لیں اور دیکھیں کہ آپ نے کیا لکھا تھا۔ (قہقہہ) یورپ اور نیٹو کے 25 سے زیادہ ممالک ہمارے کلین نیٹ ورک کا حصہ ہیں اور وہ صرف قابل اعتماد فروخت کنندگان سے کام لینے کا وعدہ کر رہے ہیں جبکہ بہت سے مزید ممالک نے بھی ان کی پیروی کرنا ہے۔

ہم نے کلین نیٹ ورک اور ای یو 5جی کلین ٹول باکس کے مابین تعاون پر یورپی یونین کے ساتھ مشترکہ اعلامیہ جاری کیا۔ چونکہ ٹول باکس ہمارے کلین نیٹ ورک کا حصہ بننے کے لیے درکار معیار پر پورا اترتا ہے اس لیے دونوں ایک ساتھ اچھا کام کریں گے۔

یہ بات اس لیے بھی اہم ہے کہ یورپی یونین کی ٹیلی کام کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹر 5 جی ٹیکنالوجی مہیا کرنے والے کسی ‘انتہائی خطرات کے حامل’ ادارے کی جانب سے اخفا، معلومات اور انٹلیکچوئل پراپرٹی سے متعلق قواعد کی خلاف ورزی کے ذمہ دار ہو سکتے ہیں۔

نیٹو کے نائب سیکرٹری جنرل نے بھی اس اتحاد کے لیے شفاف 5 جی نیٹ ورک کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ مجھے یہ سن کر خوشی ہوئی تھی۔ ہم اس معاملے میں بھی حقیقی پیش رفت کریں گے۔

امریکہ دنیا بھر کے آزادی پسند ممالک کو دعوت دیتا ہے کہ وہ ہمارے کلین نیٹ ورک کے ارکان کی حیثیت سے دنیا کے 40 سے زیادہ ممالک اور شفاف ٹیلی کام کمپنیوں کے ساتھ شامل ہو جائیں۔

اب میں مشرق وسطیٰ کی جانب آتا ہوں۔

ٹرمپ انتظامیہ نے ہمارے خلیجی شراکت داروں کی سلامتی اور خوشحالی کی جس طرح حمایت کی ہے اس طرح تاریخ میں کبھی کسی امریکی انتظامیہ نے نہیں کی۔

آج مجھے پہلے امریکہ۔سعودیہ سٹریٹیجک ڈائیلاگ کی میزبانی کا اعزاز حاصل ہوا جیسا کہ میں نے 14 ستمبر کو قطر ڈائیلاگ کی میزبانی کی تھی۔ میں 20 اکتوبر کو اپنے اماراتی شراکت داروں کے ساتھ بھی ایسے ہی ڈائیلاگ کا منتظر ہوں۔

اب لبنان کے معاملے پر بات ہو جائے۔ امریکہ آج اسرائیل اور لبنانی حکومت کے مابین شروع ہونے والی بات چیت کا خیرمقدم کرتا ہے جس کا مقصد سمندری حدود کے معاملے پر کسی معاہدے پر پہنچنا ہے۔ اس اہم اجلاس کا انعقاد امریکہ نے ممکن بنایا اور لبنان کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی رابطہ کار جان کوبیس اس کی میزبانی کریں گے۔

دونوں ممالک کی درخواست پر میں نے معاون وزیر خارجہ شینکر اور سفیر ڈیسروشر کو ثالثی کرنے اور بات چیت کے پہلے سیشن میں سہولت دینے کے لیے بھیجا۔ ہم نے اس بات چیت کو کامیاب بنانے میں مدد دینے کا عہد کر رکھا ہے۔

داعش کے خلاف جاری جنگ پر میں یہ کہوں گا کہ ‘بیٹلز’ کی تشدد اور یرغمالیوں کو قتل کرنے میں مبینہ کردار پر قانونی کارروائی کا سامنا کرنے کے لیے امریکہ کو منتقلی ہماری بہت بڑی فتح ہے۔ ان کے جرائم داعش کی جانب سے خطے اور امریکہ کے عوام کے خلاف بے رحمانہ کارروائیوں کی عکاسی کرتے ہیں۔

ہم جیمز فولے، پیٹر کیسگ، کائلا مولر اور سٹیون سوٹلوف کے خاندانوں کو انصاف مہیا کرنے کا عزم کیے ہوئے ہیں۔

محکمہ انصاف نے بھی اعلان کیا ہے کہ اب امریکہ نے شامی جمہوری فورسز کے زیرحراست امریکیوں کو کامیابی سے واپس لے لیا ہے جن پر داعش کی مدد کرنے کا الزام تھا۔ ہم 10 بالغ افراد اور 15 بچوں کو واپس لا چکے ہیں جن کے پاس اب بہتر زندگی گزارنے کا موقع ہے۔

میں ایس ڈی ایف کی کوششوں پر اس کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ ہم دنیا کے ممالک خصوصاً مغربی یورپ سے کہتے ہیں کہ وہ اس خطے میں موجود اپنے شہریوں کی ذمہ داری لے۔

اب امریکہ سے قریبی خطے کی بات ہو جائے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے ہمارے خطے کو آزادی کے کُرے کے طور پر مضبوط بنایا ہے۔ سیکرٹری جنرل لوئس ایلمیگرو کے زیرقیادت او اے ایس انسانی حقوق اور جمہوریت کی مضبوط حامی رہی ہے۔ مجھے اس ماہ 20 اور 21 تاریخ کو او اے ایس کی ورچوئل جنرل اسمبلی میں امریکی وفد کی قیادت کر کے خوشی ہو گی۔ یہ ہمارے کُرے کے لیے ایسی حکومتوں کا مقابلہ کرنے کا وقت ہے جو اپنے عوام پر جبر کرتی ہیں اور بین امریکی جمہوری اعلامیے کے اصولوں سے روگردانی کی مرتکب ہوتی ہیں۔ ان میں کیوبا، نکارا گوا اور وینزویلا جیسے ممالک شامل ہیں۔

میں ضمیر، مذہب یا عقیدے کی آزادی کے حق کے تحفظ سے متعلق قرارداد کی منظوری کا منتظر ہوں جو گزشتہ برس مذہبی آزادی پر منظور کی جانے والی ایسی پہلی قرارداد کا تسلسل ہو گی۔

مجھے اس خطے میں جمہوریت سے متعلق دو معاملات پر بات کرنا ہے۔

18 اکتوبر کو بولیویا کے عوام حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ امریکہ وہاں تمام سیاسی کرداروں سے کہتا ہے کہ وہ انتخابی عمل کو قابل اعتبار اور پرامن بنانے میں مدد دیں۔ ہم بولیویا کے عوام کی جانب سے آزادانہ اور شفاف طور سے منتخب کسی بھی صدر کے ساتھ کام کرنے کے منتظر ہیں جسے وہ بولیویا اور پورے خطے میں جمہوریت، انسانی حقوق اور خوشحالی کو فروغ دینے کے لیے چُنیں گے۔

میں اس سے پہلے کی گئی اپنی بات کو ایک مرتبہ پھر دہراؤں گا کہ ہیٹی میں انتخابات کے انعقاد میں تاخیر ہو چکی ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ تکنیکی طور پر جتنا جلد ممکن ہو ان انتخابات کا انعقاد عمل میں آ جانا چاہیے۔ ہم جانتے  ہیں کہ او اے ایس سیکرٹریت نے جنوری کے آخر تک انتخابات کرانے کا مطالبہ کر رکھا ہے۔

آخر میں افریقہ سے ایک اچھی خبر کا تذکرہ ہو جائے۔

ہم ڈیمو کریٹک ریپبلک آف کانگو (ڈی آر سی) کے صدر فیلکس شیسیکیڈی کی جانب سے 7 اکتوبر کو انگولا، روانڈا اور یوگنڈا کے سربراہان  مملکت کے ساتھ بات چیت کے لیے ورچوئل انداز میں ”ایسٹرن کانگو سمِٹ” کے انععقاد کی کوششوں کو سراہتے ہیں۔ اس اجلاس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تاریخی طور پر اس بے چین خطے کے لیے پائیدار امن، استحکام اور معاشی خوشحالی ممکن بنانے کی خاطر اعلیٰ سطحی عزم ناممکن بات نہیں۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں