rss

توانائی کے غیراستوار ذرائع سے متعلق اقدام (ایف آر آئی) کے تحت گیس اور بجلی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے امریکہ۔انڈیا کلین انرجی ٹاسک فورس کی صنعتی گول میز کانفرنس

English English, हिन्दी हिन्दी

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
26 اکتوبر 2020

 

امریکہ اور انڈیا نے ‘سی ای آر اے ویک انڈیا انرجی فورم’ کے دوران 26 اکتوبر کو امریکہ۔انڈیا کلین انرجی ٹاسک فورس کی اعلیٰ سطحی صنعتی گول میز کانفرنس کا ورچوئل انداز میں انعقاد کیا۔ اس کانفرنس میں توانائی کے غیر استوار ذرائع سے متعلق اقدام (ایف آر آئی یا ‘فری’) پر بات چیت کی گئی جس کا آغاز ایک سال قبل اسی مہینے نئی دہلی میں ہوا تھا۔ ایف آر آئی یہ امر یقینی بنانے کے لیے کم لاگت پر مبنی طریقہ ہائے کار سے متعلق حکمت عملی مرتب کرتا ہے کہ انڈیا کا توانائی کا نظام آئندہ دہائی تک توانائی کے دوسرے ذرائع کی جانب منتقلی میں مدد دینے کے قابل ہو اور اس دوران بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب بھی قابل بھروسہ طور سے پوری ہوتی رہے۔

اس ضمن میں توانائی کے ذرائع (ای این آر) سے متعلق امریکہ کے معاون وزیر خارجہ فرانسس آر فینن اور توانائی کے وفاقی انضباطی کمیشن (ایف ای آر سی) کے چیئرمین نیل چیٹرجی نے انڈیا کے پیٹرولیم اور قدرتی گیس سے متعلق انضباطی بورڈ کے چیئرپرسن دنیش صراف اور وزارت توانائی کے جوائنٹ سیکرٹری گھنشیام پراساد سے ملاقات کی۔ اس موقع پر فریقین نے ایسی مجوزہ انضباطی تبدیلیوں پر روشنی ڈالی جو انڈیا کے گیس پائپ لائن انفراسٹرکچر اور گیس سے چلنے والے بجلی کے کارخانوں میں بہتری لائیں گی تاکہ بجلی کے گرڈ کی مختلف ذرائع سے چلنے کی صلاحیت میں اضافہ ہو سکے۔ گیس الیکٹرک ویلیو چین سے متعلق اعلیٰ سطحٰ صنعتی نمائندے بشمول بجلی کے نظام اور گیس پائپ لائنوں کے آپریٹروں، گیس سے چلنے والے بجلی گھروں کے آپریٹروں، تیل اور گیس کے شعبے میں کام کرنے والی بڑی کمپنیوں کے نمائندوں اور پائپ لائن و قابل تجدید توانائی کے شعبے میں سرگرم ڈویلپرز نے بھی  اس بات چیت میں شرکت کی۔

ایف آر آئی نے انڈیا میں توانائی کے شعبے میں بہت سے غیراستوار ذرائع کے لیے نئی سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہونے کا اشارہ بھی دیا۔ عملدرآمد کی صورت میں ایف آر آئی کے تحت ان مجوزہ تبدیلیوں کی بدولت متوقع طور پر توانائی کے شعبے میں گیس کی قیمت کم کرنے میں مدد ملے گی اور گیس سے چلنے والے بجلی گھروں کو توانائی کے نظام کی ضرورت پوری کرنے کے لیے مزید بہتر بنایا جا سکے گا۔ ایف آر آئی انڈیا کی وزارت توانائی کے ساتھ ایک کُل حکومتی طریقہ کار کو منظم کرتا ہے جس میں اس کا نئی اور قابل تجدید توانائی کی وزارت، بجلی کے مرکزی محکمے، بجلی سے متعلق مرکزی انضباطی کمیشن اور پاور سسٹم آپریشن کارپوریشن نیز پیٹرولیم اور قدرتی گیس سے متعلق انضباطی بورڈ کے ساتھ تعاون شامل ہے۔ امریکی دفتر خارجہ اور ایف ای آر سی مشترکہ طور پر ایف آر آئی کی قیادت کرتے ہیں جس میں امریکی محکمہ توانائی اور امریکی ادارہ برائے عالمی ترقی بھی ان کے ساتھ ہیں۔

ایف آر آئی کُل حکومتی ایشیا ایج (توانائی کے ذریعے ترقی اور نمو میں اضافے سے متعلق) اقدام کا حصہ بھی ہے جس کا مقصد خطہ ہند۔الکاہل کے لیے مشترکہ تصور کی اعانت کرنا ہے۔ ایشیا ایج توانائی سے متعلق  سلامتی کی صورتحال بہتر بنانے، توانائی کے تنوع اور اس کی تجارت میں اضافے اور پورے خطہ ہند۔الکاہل میں توانائی تک رسائی کو وسعت دینے کا کام کرتا ہے۔ اس حوالے سے یہ خطہ خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ 2040 تک توانائی کی طلب میں عالمگیر اضافے کا 40 فیصد اسی خطے میں دیکھنے کو ملے گا۔ توانائی سے متعلق عالمگیر ادارے (آئی ای اے) کے مطابق صرف انڈیا ہی کی توانائی کی ضرورت  وقت کے ساتھ دگنی ہونے کی توقع ہے۔ انڈیا کی جانب سے بہت بڑے چیلنج اور مواقع درپیش ہیں جو سرکاری و نجی شعبے میں اعلیٰ سطحی شراکت داریوں کا تقاضا کرتے ہیں۔

مزید معلومات  کے لیے توانائی کے وسائل سے متعلق دفتر کے ترجمان ڈونلڈ کلبرگ سے [email protected] پر رابطہ کیجیے یا www.state.gov/e/enr کا وزٹ کیجیے۔ اضافی معلومات ٹویٹر کے لنک @EnergyAState پر دستیاب ہیں۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں