rss
تازہ ترین خبر
  • سب صاف کریں
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں
2017-10-19

وزیرخارجہ ٹلرسن کا دورہ سعودی عرب، قطر، پاکستان، انڈیا اور سوئزرلینڈ

ریاض میں وزیرخارجہ سعودی عرب اور عراقی حکومت کے مابین رابطہ کونسل کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ وزیرخارجہ متعدد سعودی رہنماؤں سے بھی ملاقات کریں گے اور اس دوران یمن میں جنگ، خلیجی تنازع، ایران اور متعدد دیگر اہم علاقائی و باہمی امور پر تبادلہ خیال ہو گا۔


2017-10-18

‘آئندہ صدی کے لیے انڈیا کے ساتھ امریکی تعلقات کی وضاحت’

انڈیا کے ساتھ میرے تعلقات کا آغاز قریباً 1998 سے ہوتا ہے، اب انہیں 20 برس ہو چکے ہیں، اس وقت میں نے انڈیا میں توانائی کے تحفظ کی بابت امور پر کام شروع کیا تھا۔ ان بہت سے برسوں میں مجھے متعدد مرتبہ انڈٰیا جانے کا موقع ملا۔ اس وقت انڈیا والوں کے ساتھ کاروبار کرنا واقعتاً خاص بات تھی اور اس برس انڈین رہنماؤں کے ساتھ وزیرخارجہ کی حیثیت سے ملنا بہت بڑے اعزاز کی بات ہے۔ میں اگلے ہفتے سرکاری حیثیت میں پہلی مرتبہ دہلی جانے کا منتظر ہوں امریکی انڈیا تعلقات اور امریکی انڈیا شراکت داری کے حوالے سے دیکھا جائے تو دورے کے لیے اس سے زیادہ امید افزا موقع کوئی اور نہیں ہو سکتا۔

دستیاب ہے:

سنٹر فار سٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز میں وزیرخارجہ ٹلرسن کی تقریر پر دفتر خارجہ کے اعلیٰ افسر کی بریفنگ

جیسا کہ آپ جانتے ہیں وزیرخارجہ نے انڈیا کے بارے میں طویل تقریر کی ہے۔ آنے والے دنوں میں ہمارا وہاں کا دورہ بھی طے ہے۔ لہٰذا (دفتر خارجہ کے اعلیٰ افسر) کے پاس اس حوالے سے کچھ معلومات ہیں۔ (دفتر خارجہ کے اعلیٰ افسر) آپ بات شروع کیجیے۔

دستیاب ہے:

‘آئندہ صدی کے لیے انڈیا کے ساتھ امریکی تعلقات کی وضاحت’ وزیرخارجہ ریکس ٹلرسن کا اظہار خیال

جان، آپ کا بے حد شکریہ اور اس عمارت میں دوبارہ آنا واقعتاً خوشی کا باعث ہے۔ میں جان سے پوچھ رہا تھا کہ آیا یہ جگہ اس منصوبے کے آغاز کے وقت اس سے باندھی گئی تمام توقعات پوری کر رہی ہے۔ مجھے کمرے میں ایسے بہت سے چہرے دکھائی دیتے ہیں جو اسے حقیقت کا روپ دینے کے عمل کا اہم حصہ تھے۔ میرا خیال ہے انہوں نے مجھے بتایا کہ آج یہاں بیک وقت چار پروگرام ہو رہے ہیں اور میں نے کہا 'زبردست'۔ دراصل ہم نے یہی کچھ سوچا تھا۔

دستیاب ہے:

2017-10-15

وزیرخارجہ ٹلرسن کا ‘سی بی ایس نیوز’ کے جان ڈکرسن کو انٹرویو

وزیرخارجہ ٹلرسن: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ہمارے مابین تبادلہ خیال ہوا تھا اور اسی لیے میں سمجھتا ہوں کہ انہیں اچھی طرح اندازہ تھا کہ صدر کون سا فیصلہ لیں گے.


2017-10-13

وزیرخارجہ ریکس ٹلرسن اور قومی سلامتی کے مشیر ایچ آر مکماسٹر کی ایران کے معاملے پر پریس بریفنگ

جنرل مکماسٹر: سبھی کو شام بخیر۔ وزیرخارجہ ٹلرسن اور مجھے آپ کے ساتھ صدر ٹرمپ کی ایران کے بارے میں حکمت عملی پر بات کرتے ہوئے خوشی ہے۔ میں جلدی سے تعارفی طور پر یہ کہوں گا کہ یہ کئی ماہ پر مشتمل بین الاداری عمل کا نتیجہ ہے جس میں وزیرخارجہ ٹلرسن نے ایران کے ساتھ مسائل کو ہمارے قومی سلامتی کے اہم مفادات کی روشنی میں دیکھنے کے لیے بنیادی کردار ادا کیا۔


ایران کے بارے میں صدر ٹرمپ کی نئی حکمت عملی

صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ نے اپنی قومی سلامتی کی ٹیم کی مشاورت سے ایران کے بارے میں نئی حکمت عملی کی منظوری دے دی ہے۔ یہ امریکی سلامتی کے بہترین طور سے تحفظ کی بابت کانگریس اور ہمارے اتحادیوں سے نو ماہ تک جاری رہنے والی بات چیت اور سوچ بچار کا نکتہ عروج ہے۔


صدر کا ایران کے بارے میں حکمت عملی کا اعلان- انتظامیہ کے اعلیٰ حکام کی بریفنگ

پہلے اعلیٰ انتظامی افسر: میرا اندازہ ہے کہ میرے پاس چند نکات ہی ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ آج شام صدر کے خطاب کو 'جے سی پی او اے' یا ایرانی جوہری معاہدے سے متعلق تقریر سمجھا گیا ہے جو کہ درست نہیں۔ اگرچہ وہ 'جے سی پی او اے' اور جوہری معاہدے پر بات چیت کریں گے مگر بنیادی طور پر یہ ایران کے بارے میں حکمت عملی کے حوالے سے تقریر ہو گی جس میں ایران کے جوہری پروگرام سمیت تمام ضرررساں سرگرمیوں اور ان تمام سے نمٹنے کے لیے امریکہ کے تمام اقدامات کا تذکرہ ہو گا۔

دستیاب ہے:

ایران کے بارے میں حکمت عملی پر صدر ٹرمپ کا بیان

صدر: آپ کا بے حد شکریہ۔ میرے ساتھی امریکیو، امریکہ کے صدر کی حیثیت سے میرا اہم ترین فرض امریکی عوام کی حفاظت اور سلامتی یقینی بنانا ہے۔تاریخ سے ثابت ہے کہ ہم کسی خطرے کو جتنی دیر نظر انداز کرتے ہیں وہ اتنا ہی شدید ہو جاتا ہے۔ اسی لیے عہدہ سنبھالنے کےبعد میں نے ایران میں سرکش حکومت کے حوالے سے ہماری پالیسی کے مکمل سٹریٹجک جائزے کا حکم دیا۔ اب یہ جائزہ مکمل ہو چکا ہے۔


محکمہ خزانہ کی جانب سے ایرانی پاسداران انقلاب اور اس کے عسکری معاونین کے خلاف پابندیاں

واشنگٹن: آج امریکی محکمہ خزانہ کے دفتر برائے انضباط غیرملکی اثاثہ جات (او ایف اے سی) نے ایران کے پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) کو دہشت گردی سے متعلق عالمی انتظامی حکم (ای او) 13224 اور امریکہ کے مخالفین پر پابندیوں کے قانون کی مطابقت سےان پابندیوں کے لیے نامزد کیا ہے