rss
تازہ ترین خبر
  • سب صاف کریں
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں
2017-10-27

امریکہ انڈیا تجارتی گفت و شنید پر وزیر تجارت ولبر راس اور انڈین وزیر تجارت و صنعت سریش پربھو کا مشترکہ بیان

27 اکتوبر کو وزیر تجارت ولبر راس اور انڈین وزیر تجارت و صنعت سریش پربھو کی ملاقات ہوئی جس میں امریکہ انڈیا تجارتی تعلقات زیربحث آئے اور امریکہ انڈیا تجارتی گفت و شنید کا پہلا دور شروع ہوا۔ 2005 کے بعد امریکہ انڈیا مجموعی تجارت میں تین گنا متاثرکن اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے فریقین نے امریکہ انڈیا تعلقات کی نمایاں سٹریٹجک اور معاشی اہمیت کی توثیق کی جس سے مشترکہ معاشی ترقی کو فروغ ملے گا، نئی نوکریاں پیدا ہوں گی اور دونوں ممالک کی خوشحالی میں اضافہ ہو گا۔ ترقی کے حوالے سے متعدد شعبہ جات میں تعاون کی اہمیت واضح کرتے ہوئے دونوں نے تجارتی رکاوٹوں میں کمی کی ضرورت پر زور دیا اور امریکہ و انڈیا میں کاروبار کے لیے تجارت و سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے بامعنی پیش رفت کا عزم ظاہر کیا۔

دستیاب ہے:

قائمقام معاون وزیر خارجہ برائے جنوبی و وسطی ایشیائی امور اور قائمقام خصوصی نمائندہ برائے افغانستان و پاکستان ایلس جی ویلز کی پریس بریفنگ

سفیر ویلز:میں ہر ملک کے بارے میں کچھ اہم باتیں بتاؤں گی اور پھر ہم سوال و جواب کا سلسلہ شروع کریں گے۔ افغانستان میں وزیر خارجہ نے صدر غنی اور ڈاکٹر عبداللہ دونوں سے جنوبی ایشیا کی حکمت عملی کے حوالے سے بات چیت کی اور انہیں کچھ بنیادی نکات بتائے

دستیاب ہے:

2017-10-26

افیون کے مسئلے سے نمٹنے میں دفتر خارجہ کا کردار

ہیدا نوئرٹ: آپ کو یہاں دیکھ کر خوشی ہوئی۔ یہاں آنے پر سبھی کا شکریہ۔ آج میں چند فاضل مہمانوں کو ساتھ لائی ہوں جس کا مقصد آپ کو موجودہ مسائل پر اپنے مزید ماہرین کے ذریعے معلومات فراہم کرنا ہے۔ میں یہاں اپنی جانب سے یہ بات کہنا چاہوں گی کہ ہمارے یہ ساتھی دفتر خارجہ میں بالترتیب 15 اور 17 برس سے کام کر رہے ہیں۔ ان دونوں کا تعلق سرکاری ملازمت سے ہے جنہوں نے دفتر خارجہ اور امریکی عوام کے لیے بے پایاں کام کیا ہے۔


امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کی پریس کانفرنس

وزیرخارجہ ٹلرسن: اگرچہ اس میں بہت سے دن صرف ہوئے، یہ طویل دورہ نہیں تھا، مگر اس دوران پڑاؤ کی تعداد کو دیکھا جائے تو یہ خاصی طوالت کا حامل تھا۔ چنانچہ میرے پاس آپ کو بتانے کے لیے بہت سی باتیں ہیں۔ میں نے انہیں کاغذ پر لکھ رکھا ہے تاکہ کوئی بات رہ نہ جائے۔ چنانچہ پہلے میں اپنی بات کہوں گا اور پھر آپ کے سوالات کا جواب دوں گا


وزیر دفاع ماٹس کی انڈین وزیردفاع نرملا ستھارمن سے ملاقات

وزیردفاع جم ماٹس نے 25 اکتوبر کو کلارک پامپانگا ،فلپائن میں آسیان کے وزرائے دفاع اور دیگر کے اجلاس (اے ڈی ایم ایم-پلس) کے موقع پر انڈین وزیر دفاع نرملا ستھارمن سے ملاقات کی۔ اس موقع پر دونوں نے قوانین کی بنیاد پر عالمی نظام کی اہمیت سے اتفاق کیا جس میں تمام ممالک خوشحالی کی منزل حاصل کرنے کے اہل ہوں۔ دونوں وزرائے دفاع میں دہشت گردی کے مشترکہ خطرے کے خلاف اکٹھے کام کرنے کی ضرورت پر بھی اتفاق پایا گیا۔

دستیاب ہے:

عالمی میلے (نمائش) کی میزبانی کے لیے امریکی پیشکش کے بارے میں نائب وزیر دفاع جان سلوین کا بیان

امریکی دفتر خارجہ دفتر برائے ترجمان برائے فوری اجرا 26 اکتوبر 2017 شکریہ ہیدا، اس مشفقانہ تعارف اور یہاں آنے پر میں آپ کا مشکور ہوں۔ یہاں بہت سے ایسے لوگوں کو دیکھ کر خوشی ہوئی جنہوں نے ‘ایکسپو 2023’ کے لیے امریکی پیشکش کے حوالے سے مفید کردار ادا کیا۔ میں اس سہ پہر…


شمالی کوریا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور سنسرشپ سے متعلق رپورٹ کا اجرا نائب معاون وزیرخارجہ برائے جمہوریت، انسانی حقوق و محنت سکاٹ بسبی کی آن ریکارڈ بریفنگ

اس کے بعد میں آپ کو ہمارے ایک اور نائب وزیر سے متعارف کرانا چاہوں گی۔ جی یہاں آئیے۔ یہ سکاٹ بسبی ہیں۔ سکاٹ ہمارے 'ڈی آر ایل بیورو' کے لیے کام کرتے ہیں جس سے مراد جمہوریت، انسانی حقوق اور محنت ہے۔ یہاں وہ شمالی کوریا کے بارے میں بات کریں گے


عالمی میلے (نمائش) کی میزبانی کے لیے امریکی پیشکش کے بارے میں نائب وزیر دفاع جان سلوین کا بیان

مجھے یہ بتاتے ہوئے بے حد خوشی ہے کہ اب امریکی تجویز حتمی مرحلے میں پہنچ چکی ہے۔ ہمارے لوگوں نے تندہی سے یہ امر نمایاں کیا کہ امریکہ خصوصاً منیسوٹا 'صحت و تندرستی' کے مثالی تصور کے ساتھ عالمی میلے یا 2023 میں ہونے والی 'نمائش' کی میزبانی کے لیے بہترین جگہ کیوں ہے۔

دستیاب ہے:

2017-10-25

وزیرخارجہ ٹلرسن اور انڈین وزیر برائے امور خارجہ سشما سوارج کی پریس کانفرنس

انڈیا اور امریکہ کے قریبی تعلقات کو اب 70 برس سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے اور وزیراعظم مودی کے الفاظ میں ہم فطری اتحادی ہیں۔ ہم ان کی دوستی اور دونوں ملکوں میں قریبی تعلقات کے حوالے سے سوچ پر ان کے شکرگزار ہیں۔ یقیناً یہ ہماری مشترکہ سوچ ہے۔ امریکہ ایک اہم طاقت کے طور پر انڈیا کے ظہور کی حمایت کرتا ہے اور خطے بھر میں تحفظ کی فراہمی کے ضمن میں انڈیا کی صلاحیتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اس حوالے سے ہم انڈیا کی فوج کو جدید بنانے کی کوششوں کے ضمن میں ترقی یافتہ ٹیکنالوجی کی فراہمی کے لیے تیار ہیں۔ اس میں امریکی صنعت کی جانب سے انڈیا کو ایف 16 اور ایف 18 جہازوں کی پیشکش بھی شامل ہے۔ میں اپنے دوست اور وزیردفاع ماٹس کا شکرگزار ہوں کہ انہوں نے گزشتہ ماہ انڈیا کا دورہ کیا۔ وہ اور میں دونوں آئندہ برس کے آغاز میں 2+2 ڈائیلاگ شروع ہونے کے منتظر ہیں ۔

دستیاب ہے:

2017-10-24

پناہ گزینوں کے امریکہ داخلے کے پروگرام کی صورتحال

قوم کو غیرملکی دہشت گردوں کے امریکہ داخلے سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے انتظامی حکم 13780 کے سیکشن 6 (اے) کی بنیاد پر امریکی حکومت نے پناہ گزینوں کے امریکہ داخلے کے پروگرام (یوایس آر اے پی) کا 120 روزہ جائزہ لیا تاکہ امریکی عوام کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے سکیورٹی کی غرض سے اضافی جانچ پڑتال کے طریقہ ہائے کار کی نشاندہی اور ان پر عملدرآمد ممکن ہو سکے۔